رسائی کے لنکس

امریکہ برما تجارتی سمجھوتہ، تھیان کی سینیٹروں سےملاقاتیں


برما اس بات کا خواہاں ہے کہ امریکہ باقی ماندہ برمی صنعتی اشیا پر سے بھی تعزیرات اٹھا لے، اور اس جنوب مشرقی ایشیائی ملک میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے امریکی کاروباروں کی حوصلہ افزائی کی جائے

برما کے صدر تھیان سین نے امریکہ کا تاریخی دورہ مکمل کرلیا ہے، جس دوران اُنھوں نے اوباما انتظامیہ کے ساتھ ایک تجارتی معاہدہ طے کیا اور کانگریس کےمتعدد معروف ارکان سے ملاقات کی۔

مسٹر تھیان سین کے وفد کے ایک رُکن، برما کے کاروبار کے معاون وزیر پِنٹ سان نے منگل کے روز تجارت سے متعلق امریکی نمائندے، دمتریوز مرانتیس کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے۔

مرانتیس کے دفتر کا کہنا ہے کہ تجارت اور سرمایہ کاری کے اس معاہدے میں امریکہ اور برما سے کہا گیا ہے کہ اُن کاروباری امکانات کی شناخت کی جائے جِن کا انحصار برما کی طرف سے کی گئی اصلاحات پر ہو اور جِن ترقیاتی منصوبوں میں برما کے عوام کا مفاد وابستہ ہو، اور جن میں غریب ترین لوگ بھی شامل ہیں۔ سمجھوتے کے تفصیل بیان نہیں کیے گئے۔

برما اس بات کا خواہاں ہے کہ امریکہ باقی ماندہ برمی صنعتی اشیا پر سے بھی تعزیرات اٹھا لے، اور اس جنوب مشرقی ایشیائی ملک میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے امریکی کاروباروں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

امریکہ نے اس سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران دس لاکھ ڈالر مالیت کی برما کی صنعتی اشیا درآمد کیں، جب کہ برما کو آٹھ کروڑ نوے لاکھ ڈالر کی اشیا برآمد کیں۔

گذشتہ سال، دنیا کے ساتھ برما کی تجارت 20ارب ڈالر مالیت کی تھی۔

منگل کو واشنگٹن سے روانہ ہونے سے قبل، صدر تھیان سین نے متعدد قانون سازوں سے ملاقات کی، جنھوں نے امریکہ برما تعلقات کو بہتر کرنے میں کردار ادا کیا ہے، جِن میں سینیٹر ہیری ریڈ، سینیٹر مِچ مکانیل اور سینیٹر لِنڈسی گراہم شامل ہیں۔

فوری طور پر یہ نہیں بتایا گیا آیا بات چیت میں کون سے موضوع زیرِ غور آئے۔
XS
SM
MD
LG