رسائی کے لنکس

کوبانی کا محاصرہ تنگ، مغربی ملکوں سے مدد کی اپیل


فائل

فائل

امریکی دعووں کے برعکس شہر کا دفاع کرنے والے کرد جنگجووں کا کہنا ہے کہ وہ بدستور پسپا ہورہے ہیں اور شدت پسند جنگجو شہر کے نواحی علاقوں میں داخل ہوگئے ہیں۔

ترکی کی سرحد سے متصل شام کے شہر کوبانی کے گرد شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے جنگجووں کا محاصرہ تنگ ہوتا جارہا ہے جب کہ شہر کے دفاع پر مامور کرد جنگجووں نے مغربی ملکوں سے فوری فوجی مدد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔

امریکہ نے کہا ہے کہ اس نے کوبانی کے ارد گرد موجود دولتِ اسلامیہ کے جنگجووں اور ٹھکانوں پر بمباری کی ہے جسے امریکی محکمۂ خارجہ نے "فائدے مند" قرار دیا ہے۔

لیکن امریکی دعووں کے برعکس شہر کا دفاع کرنے والے کرد جنگجووں کا کہنا ہے کہ وہ بدستور پسپا ہورہے ہیں اور شدت پسند جنگجو شہر کے نواحی علاقوں میں داخل ہوگئے ہیں۔

منگل کو واشنگٹن میں معمول کی پریس بریفنگ کے دوران محکمۂ خارجہ کی ترجمان جین ساکی نے دعویٰ کیا کہ کوبانی کے گردگزشتہ کئی روز سے جاری امریکی فضائی حملوں کے نتیجے میں شہر کا دفاع مضبوط بنانے اور شدت پسندوں کا زور توڑنے میں مدد ملی ہے۔

تاہم ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے خبردار کیا ہے کہ شدت پسند کوبانی پر قبضے کے قریب پہنچ گئے ہیں اور اگر شہر کے دفاع کے لیے زمینی فوج نہ بھیجی گئی تو شہر کرد جنگجووں کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔

اقوامِ متحدہ کے نمائندہ خصوصی برائے شام اسٹیفان ڈی مستورا نے بھی عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کوبانی کے دفاع کے لیے فوری طور پر ٹھوس اقدمات کرے۔

اپنے ایک بیان میں اقوامِ متحدہ کے ایلچی نے کہا ہے کہ اگر دولتِ اسلامیہ شہر پر قابض ہوگئی اور دنیا نے اس شہر کو بچانے کے لیے اقدامات نہ کیے تو اس کے پاس صرف پچھتاوا رہ جائے گا۔

ترکی کی حکومت پر مقامی کردوں کی جانب سے سخت دباؤ ہے کہ وہ سرحد پار کوبانی کے دفاع کےلیے فوجی مداخلت کرے لیکن ترک حکومت اپنے تئیں شام میں مداخلت سے ہچکچاتی رہی ہے اور اس کا مطالبہ ہے کہ امریکہ کی قیادت میں بننے والا عالمی اتحاد ہی اس ضمن میں کوئی کارروائی کرے۔

منگل کو ترکی کے جنوب مشرقی علاقوں میں کردوں کی جانب سے شام کی صورتِ حال اور ترک حکومت کی عدم مداخلت کی پالیسی کے خلاف بڑے احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے۔

مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں ایک شخص ہلاک ہوا ہے جب کہ کئی درجن افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

XS
SM
MD
LG