رسائی کے لنکس

امریکہ: ’لنکن میموریل‘ میں مارٹن لوتھر کنگ کی یاد میں ریلی


مارٹن لوتھر کنگ کی تقریر کو نصف صدی گزرنے پر ہفتہ ِ تقریبات منایا جا رہا ہے جس کا ایک اہم پہلو ہفتے کے روز ’لنکن میموریل‘ پر ایک بڑی ریلی کا انعقاد تھا۔ 1963ء میں مارٹن لوتھر کنگ نے اسی مقام پر اپنی مشہور ِ زمانہ تقریر کی تھی۔

واشنگٹن ۔۔۔

I’ve a dream

پچاس برس قبل ادا کیے گئے ان الفاظ کو حالیہ تاریخ میں ایک سنگ ِ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ 1963ء میں مارٹن لوتھر کنگ جونئیر نے یہ مشہور تقریر امریکی دارالحکومت میں ’لنکن میموریل‘ میں ایک بڑے مجمعے کے سامنے کی تھی۔

یہ وہ وقت تھا جب امریکہ میں نسلی تعصب عروج پر تھا اور سیاہ فاموں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا تھا اور جب امریکہ اس بات کا کوشاں تھا کہ ایسے قوانین جن کے باعث ایک طویل عرصے سے افریقی امریکیوں کے ساتھ امتیاز برتا جاتا ہے، ختم ہوجانا چاہیئے۔

اس مارچ کو تاریخ ’واشنگٹن مارچ‘ کے نام سے یاد کرتی ہے جس میں ڈھائی لاکھ افراد نے شرکت کی تھی۔ یہ ملکی تاریخ میں مساوی حقوق کے حصول کا سب سے بڑا مظاہرہ تھا اور امریکہ کےلیے ایک فیصلہ کُن لمحے کا درجہ رکھتا ہے۔

50 برس قبل ہونے والے ’واشنگٹن مارچ‘ کی یاد میں ہی واشنگٹن میں ہفتہ ِ تقریبات منایا جا رہا ہے۔ مختلف تقریبات میں ایک اہم پہلو ہفتے کے روز اسی ’لنکن میموریل‘ پر ایک بڑی ریلی کا انعقاد تھا، جو مارٹن لوتھر کنگ کی تقریر کی یاد میں اسی جگہ پر منعقد کی گئی جہاں آج سے 50 سال پہلے مارٹن لوتھر کنگ نے تقریر کی تھی۔

Jobs, Justice and Freedom کے عنوان سے ہونے والی اس ریلی میں امریکہ بھر سے ہزاروں کی تعداد میں افراد نے شرکت کی۔ انہوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور مختلف سلوگنز اٹھا رکھے تھے۔ اس موقعے پر واشنگٹن میں سیکورٹی حکام اور پولیس کی اضافی نفری بھی تعینات کی گئی تھی۔

تقریب کا آغاز صبح 8 بجے ہوا۔ امریکہ بھر سے مختلف شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں نے مجمعے سے خطاب کیا اور انہیں وہ وقت یاد دلایا جب مارٹن لوتھر کنگ نے ایک مقصد کے لیے امریکی عوام کو یکجا کیا تھا۔

سارہ لیمن ریاست نیویارک سے بطورِ خاص اس مارچ میں شرکت کے لیے آئی تھیں۔ انکا کہنا تھا کہ ، ’آج کی یہ تقریب امریکی قوم میں موجود اتحاد، یگانگت اور امن کو ثابت کرتی ہے۔ میں یہاں آکر بہت خوش ہوں اور جو لوگ یہاں پر تقریریں کر رہے ہیں ان کے پیغامات سے اس مجمعے کو نئی طاقت مل رہی ہے۔‘

ہمارے دفتر سے چند ہی بلاکس کے فاصلے پر واقع ’لنکن میموریل‘ میں موجود یوں تو بہت سے لوگوں سے گفتگو ہوئی لیکن سب سے زیادہ مزہ ریاست نیو جرسی سے تعلق رکھنے والے جون کُک سے بات کرکے آیا۔ جون کُک نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے اسی جگہ پر کھڑے ہوکر آج سے پچاس برس قبل 1963ء مارٹن لوتھر کنگ کی تقریر سنی تھی۔ اس وقت ان کی عمر 19 برس تھی۔

جون کُک کہتے ہیں کہ، ’اس وقت کی صورتحال گھمبیر تھی۔ لوگ حکومت اور مقامی پولیس کی جانب سے اپنے استحصال پر نالاں تھے۔ اس وقت پورے ملک کی صورتحال تقریباً ایک ہی جیسی تھی۔ سبھی اُن حالات سے پریشان تھے۔ ‘

تقریب میں شریک سبھی افراد اس بات پر متفق دکھائی دئیے کہ مارٹن لوتھر کنگ جونئیر کا خواب ابھی تک شرمندہ ِ تعبیر نہیں ہو سکا ہے۔ گو ان کا یہ ماننا تھا کہ اس حوالے سے بہت سے اقدامات اٹھائے گئے ہیں لیکن ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ابھی اس ضمن میں بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

مظاہرے کے شرکاء کی اکثریت معاشی بحران اور اس کے نتیجے میں ملازمتوں میں کٹوتی اور بے روزگاری کی بڑھتی شرح سے بھی نالاں دکھائی دی۔ ان کا کہنا تھا کہ حالات بہتر کرنے کے لیے حکومت کو ترجیحی بنیادوں پر اس جانب توجہ دینا ہوگی۔

اس ریلی کی مزید تفصیل سنیئے مدیحہ انور کی اس آڈیو رپورٹ میں۔۔۔

XS
SM
MD
LG