رسائی کے لنکس

چین امریکہ موجودہ تعلقات پر ایک نظر


چین امریکہ موجودہ تعلقات پر ایک نظر

چین امریکہ موجودہ تعلقات پر ایک نظر

چین امریکہ کے طیارہ بردار جہاز Nimitz کو اس ہفتے کے آخر میں ہانگ کانگ کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے کی اجازت دینے پر رضامند ہو گیا ہے اگرچہ حال ہی میں اس نے امریکہ کے ساتھ فوجی تبادلے معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگرچہ ماضی میں بھی چین نے بندر گاہوں کے دورے منسوخ کیے ہیں لیکن ایسے وقت میں جب کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اس ہفتے کی منظوری کا مطلب خیر سگالی کا اظہار ہو سکتا ہے۔

گذشتہ مہینے جب امریکہ نے تائیوان کو چھ ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کا اسلحہ تائیوان کو فروخت کرنے کا اعلان کیا تو چین نے فوراً اعلان کر دیا کہ امریکہ کے ساتھ فوجی تبادلے منسوخ کیے جا رہے ہیں۔ اس نے یہ دھمکی بھی دی کہ اس سودے میں جو کمپنیاں ملوث ہیں ان کے خلاف پابندیاں عائد کر دی جائیں گی۔چین تائیوان کو اپنے علاقے کا حصہ سمجھتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کی طرف سے اسے اسلحہ فروخت کرنا چین کے داخلی امور میں مداخلت کے مترادف ہے ۔

حالیہ ہفتوں کے دوران امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات روز بروز کشیدہ ہوتے رہے ہیں۔ اسلحہ کی فروخت کے علاوہ چین کی کرنسی کی شرح تبادلہ اور چین کی طرف سے انٹرنیٹ پر عائد سینسر شپ کی وجہ سے دونوں ملکوں کے تعلقات متاثر ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ چینی عہدے داروں نے کہا ہے کہ امریکی صدر باراک اوباما اور تبت کے جلا وطن روحانی لیڈر دلائی لامہ کے درمیان اس ہفتے کی متوقع ملاقات سے دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد اور تعاون خطرے میں پڑ گیا ہے ۔

2007 میں جب امریکی صدر جارج ڈبلوبُش دلائی لامہ سے ملے تھے اور تقریباً اسی وقت امریکہ نے تائیوان کو اسلحہ کی ایک کھیپ کی فروخت کی منظوری دی تھی تو چین نے امریکی بحریہ کے کئی جہازوں کو ہانگ کانگ کی بندرگاہ میں داخل ہونے سے روک دیا تھا۔

ہانگ کانگ کے ایک فوجی تجزیہ کار Ma Dingsheng کہتے ہیں کہ اگر چین USS Nimitz کو ہانگ کانگ میں داخل ہونے کی اجازت دے دیتا ہے، خاص طور سے ایسے وقت میں جب اسلحہ کے سودے کا تنازع ختم نہیں ہوا ہے اور اوباما اور دلائی لامہ کی ملاقات کے سوال پر کشیدگی بڑھ رہی ہے، تو یہ اس بات کی علامت ہو گی کہ چین زیادہ لچکدار رویہ اختیار کر رہا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کی گنجائش پیدا کر رہا ہے ۔

امریکہ کی طرف سے اس اعلان پر کہ وہ ہانگ کانگ کو جدید Patriot میزائل، بلیک ہاک ہیلی کاپٹر اور دوسرے ہتھیار فروخت کر رہا ہے ، چین نے سخت موقف اختیار کیا ہے ۔ امریکی عہدے دار کہہ رہے ہیں کہ چین کو امریکہ کے ساتھ تعلقات میں زیادہ پختہ انداز فکر کا مظاہرہ کرنا چاہیئے ۔پینٹا گان کے پریس سیکرٹری Geoff Morrell نے کہا ہے کہ امریکہ اپنے اس عہد پر قائم ہے کہ وہ چین کے ساتھ پختگی اور استقامت پر مبنی فوجی تعلقات برقرار رکھے گا۔ انھوں نے کہا’’ہمیں اپنی سوچ میں پختگی سے کام لینا چاہیئے ۔ یہ تعلق ہم دونوں کے لیے اہم ہونا چاہیئے صرف ہمارے لیے نہیں بلکہ دونوں ملکوں کے لیے تاکہ اسے برقرار رکھنے کے لیے ہم محنت سے کام کرتے رہیں اور جب حالات مشکل ہو جائیں ، اس وقت بھی ہم بات چیت جاری رکھیں۔‘‘

یونیورسٹی آف میامی کی June Dreyer کہتی ہیں کہ Nimitz کوہانگ کانگ کی بندرگاہ میں لنگر انداز ہونے کی اجازت دینے سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ چین محسوس کر رہا ہے کہ اس کا رد عمل ضرورت سے زیادہ سخت تھا اور اب معاملات کو ٹھنڈا کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ جب چین کو سخت مزاحمت ملتی ہے تو وہ عموماً پیچھے ہٹ جاتا ہے ۔

ڈیفنس نیوز کے ایشیا بیورو چیف Windell Minnick کہتے ہیں کہ اگرچہ امریکہ چین کی فوج کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے رہا ہے لیکن چین اکثر انہیں خطرناک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے ۔ ان کا کہناہے ’’دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان یہ تعلقات تنازعات کو روکنے کے لیے انتہائی اہم ہیں اور چین کو ان تعلقات کو بہتر طور پر قائم کرنے کے لیے اور زیادہ محنت کرنا ہوگی بجائے اس کے کہ ہم اس قسم کے مسائل میں الجھیں۔‘‘

Minnick کہتے ہیں کہ اکثر جب چین کو امریکہ سے کچھ لینا ہوتا ہے تو وہ کوئی بحران پیدا کر دیتا ہے ۔اگرچہ انہیں امید ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کوئی پُر تشدد جھڑپیں نہیں ہوں گی لیکن وہ انتباہ کرتے ہیں کہ آنے والے مہینوں میں کشیدگی یہ شکل اختیار کر سکتی ہے کہ چین کی بحریہ امریکی جہازوں کو پریشان کرنا شروع کردے جیسا کہ گذشتہ سال امریکی بحریہ کے جہاز Impeccable کے ساتھ ہوا تھا۔

گذشتہ مہینے تائیوان کوامریکی اسلحہ کی فروخت پراحتجاج شروع ہونے سے پہلے ایسا لگتا تھا کہ امریکی اور چینی فوج کے درمیان تعلقات بہتر ہو رہے ہیں۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ چونکہ آج کل بہت سے مشکل مسائل جیسے عالمی معیشت اور آب و ہوا میں تبدیلی کا سامنا ہے جن کے لیے چین اور امریکہ کا تعاون ضروری ہے اس لیے موجودہ کشیدگی زیادہ دن نہیں چلے گی۔

XS
SM
MD
LG