رسائی کے لنکس

چینی کرنسی کی قدر بدستور قابل ذکر حد تک کم: امریکہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

چین نے اپنے ردِ عمل میں کہا ہے کہ بیجنگ نے کرنسی سے متعلق معاملات پر پیش رفت کی ہے اور امریکہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے مابین اقتصادی تعلقات میں خلل نا ڈالے۔

اوباما انتظامیہ نے چین کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس ایشیائی ملک نے اپنی کرنسی کی قدر نمایاں طور پر کم رکھی ہے۔

امریکی وزارت خزانہ نے کانگریس میں پیش کردہ رپورٹ میں کہا ہے کہ چینی کرنسی رنمنبی کی قدر میں اضافہ ہو رہا ہے ’’لیکن یہ اضافہ اتنی تیزی سے نہیں ہو رہا جس کی کہ ضرورت ہے‘‘۔

اس رپورٹ پر جمعرات کو ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے چین کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ہوا چُن ینگ نے کہا کہ بیجنگ نے کرنسی سے متعلق معاملات پر پیش رفت کی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ امریکہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے مابین اقتصادی تعلقات میں خلل نا ڈالے۔

’’شرح تبادلہ کے بارے میں چین کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ ہمیں امید ہے کہ متعلقہ ممالک اقتصادی تعلقات میں نمایاں اور مسلسل اضافے کے لیے چین کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔‘‘

واشنگٹن کافی عرصے سے بیجنگ پر الزامات عائد کرتا آرہا ہے کہ وہ اپنی کرنسی کی قدر کو مصنوعی طور پر کم رکھتا ہے جس سے چینی کمپنیوں کو امریکی صنعت کاروں پر غیر یکساں فوقیت حاصل ہے۔ کرنسی کی قدر میں کمی کی وجہ سے چینی مصنوعات امریکہ میں قدرے سستی جبکہ چین میں امریکی مصنوعات بہت مہنگی دستیاب ہوتی ہیں۔

امریکی وزارت خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت کی مداخلت کی پالیسی کو اپناتے ہوئے چین نے اپنی کرنسی کی قدر کو بڑھنے سے روک رکھا ہے۔ وزارت کے مطابق اس سلسلے میں گزشتہ سال چین کی طرف سے بڑے پیمانے پر غیر ملکی زرمبادلہ کی خریداری ایک نمایاں اقدام رہا۔

تاہم وزارت کی رپورٹ میں چین کو ’’کرنسی مینوپلیٹر‘‘ قرار نہیں دیا گیا۔ ایسا کرنے سے چین پر تجارتی پابندیاں عائد ہوسکتی تھیں۔ وزارت نے کہا ہے کہ امریکہ چینی کرنسی کی قدر میں اضافے پر نظر رکھتے ہوئے پالیسی میں تبدیلی کے لیے بیجنگ پر زور ڈالتا رہے گا۔

1994ء میں صدر بل کلنٹن کے دور میں چین کو ’’کرنسی مینوپلیٹر‘‘ قرار دیا گیا تھا۔
XS
SM
MD
LG