رسائی کے لنکس

امریکی وزیردفاع کا کہنا تھا کہ امریکہ چین اور دیگر ملکوں کے ساتھ مل کر سائبر اسپیس سے متعلق ذمہ دارانہ بین الاقوامی قواعد وضوابط وضع کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

امریکہ کے وزیردفاع چک ہیگل نے سنگاپور میں ہونے والی سالانہ سکیورٹی کانفرنس کے موقع پر اپنے ملک میں سائبر حملوں پر چین کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔

ہفتہ کو شنگریلا سکیورٹی کانفرنس کے موقع پر چک ہیگل کا یہ بیان سامنے آیا ہے کہ واشنگٹن سائبر حملوں سے نمٹنے کے لیے بیجنگ پر دباؤ بڑھانے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔
یہ مسئلہ ان کے بقول دونوں ملکوں کے تعلقات میں خلل کا باعث بن چکا ہے۔

’’امریکہ نے سائبر مداخلت کے بڑھتے ہوئے خطرے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے، ان میں سے متعدد کا تعلق چین کی حکومت اور فوج سے ہے۔‘‘

مسٹر ہیگل کا کہنا تھا کہ امریکہ چین اور دیگر ملکوں کے ساتھ مل کر سائبر اسپیس سے متعلق ذمہ دارانہ بین الاقوامی قواعد وضوابط وضع کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اس معاملے کو وہ کانفرنس کے موقع پر چینی وفود سے ہونے والی ملاقاتوں میں بھی اٹھائیں گے۔

حالیہ دنوں میں امریکی حکومت اور ذرائع ابلاغ کی طرف سے یہ خبریں سامنے آئیں ہیں کہ چینی کمپیوٹر ہیکرز نے پینٹاگون کے اسلحہ پروگرام سمیت دیگر دفاعی ٹیکنالوجی کی معلومات پر مبنی درجنوں فائلیں چوری کی ہیں۔ چین نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے لیکن مسٹر ہیگل کے تازہ بیان پر اس نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

وزیردفاع کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب آئندہ ہفتے کیلیفورنیا میں چین کے چین صدر زی جنپنگ اور امریکی صدر براک اوباما سے ملاقات ہونے جارہی ہے جس میں حکام کے مطابق سائبر حملوں کا معاملہ بھی زیر بحث آئے گا۔
XS
SM
MD
LG