رسائی کے لنکس

امریکی وزیر دفاع نے بتایا کہ پیر کے روز ہونے والی ملاقات میں سائبر حملوں پر گفتگو کی غرض سے دونوں ملکوں نے ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیا ہے

امریکہ اور چین کے فوجی سربراہان کی پیر کو واشنگٹن میں ملاقات ہوئی، جِس میں دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان فوجی تعاون بڑھانے کے عہد کا اظہار کیا گیا۔

امریکی وزیر خارجہ چَک ہیگل نے کہا کہ امریکہ ’چین کے ساتھ ایک مثبت اور تعمیری رشتے‘ کو تقویت دینے میں پُرعزم ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ فوج کا فوج کے ساتھ تعلق بڑھانا دونوں ممالک کے مابین ’ایک اہم ستون‘ کا درجہ رکھتا ہے۔

ہیگل کے ہم منصب، جنرل چانگ وینکوان نے کہا کہ چین امریکہ کے ساتھ ایک دفاعی رشتہ استوار کرنے کا خواہاں ہے، تاکہ ’اسے ایک نئی سطح تک پروان چڑھایا جائے‘۔ تاہم، اُن کا کہنا تھا کہ یہ رشتہ اس طرح کا نہیں ہونا چاہیئے جس میں کوئی ایک طرف حاوی ہو‘۔

چانگ نے کہا کہ امریکہ چین فوجی تعلقات باہمی اعتماد پر مبنی ہونے چاہئیں، ’نہ کہ ایسے جن میں ایک دوسرے پر شکوک و شبہات ہوں‘۔

ہیگل اور چانگ نے کہا کہ دفاعی افواج دونوں ملکوں میں مشترکہ مشقوں کو فروغ دیں گے، جن میں بہت ہی جلد خلج عدن میں بحری تربیت میں شرکت کرنا شامل ہوگا۔

چانگ کے ساتھ ہیگل کی ملاقات ایشیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو فروغ دینے کی امریکی کوششوں کی غماز ہے، باوجود اِس بات کے کہ اس وقت عالمی اخبارات کی جَلّی سرخیوں میں مشرق وسطیٰ کا تنازع اور غیر یقینی حالات چھائے ہوئے ہیں۔

جون میں، امریکی صدر براک اوباما اور چینی صدر ژی جِن پِنگ نے امریکہ کی مغربی ریاست کیلی فورنیا میں ملاقات کی تھی جس میں وسیع تر امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی، لیکن سائبر سکیورٹی پر کسی سمجھوتے تک پہنچنے میں ناکامی رہی۔

امریکی سربراہ نے چین پر حقوق دانش کی چوری کا الزام لگایا جب کہ مسٹر ژی نے کہا کہ اُن کا ملک خود بھی سائبر حملوں کا شکار ہے۔

ہیگل نے کہا کہ سائبر حملوں پر گفتگو کرنے کے لیے دونوں ملکوں نے ایک ورکنگ گروپ تشکیل دے دیا ہے۔
XS
SM
MD
LG