رسائی کے لنکس

شمالی کوریا تنازعہ، حل کے لیے مل کر کوشش کرنے پر اتفاق


’چین اور امریکہ نے آج پھر اس معاملے کا پُرامن حل تلاش کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اور ہم کِم جُنگ اُن اور شمالی کوریا کی حکومت سے کہتے ہیں کہ اُن کے پاس ایک واضح راستہ موجود ہے اور وہ یہ کہ وہ مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے کی کوشش کریں‘: جان کیری

امریکہ اور چین نےشمالی کوریا کو اپنے جوہری عزائم ترک کرنے پر رضامند کرنے کے لیے مل کر کوششیں کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہوگا، یہ بات ابھی واضح نہیں ہے۔

’وائس آف امریکہ‘ کے بِل آئیدے نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ہفتے کے روز امریکہ کے اعلیٰ سفارت کار کے بیجنگ کے دورے کے دوران شمالی کوریا کا ہی معاملہ اولین ترجیح پر ایجنڈے پر تھا۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا کہ امریکہ اور چین دونوں جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے ہدف کے حصول کی حمایت کرتے ہیں۔

اُن کے بقول، چین اور امریکہ نے آج پھر اس معاملے کا پُرامن حل تلاش کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اور ہم کِم جُنگ اُن اور شمالی کوریا کی حکومت سے کہتے ہیں کہ اُن کے پاس ایک واضح راستہ موجود ہے اور وہ یہ کہ وہ مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے کی کوشش کریں۔ اس بات سے قطع نظر کہ وہ کیا کرتے ہیں، ہم اس کے لیے کوشش کرتے رہیں گے۔‘

کیری چینی حکام پر زور دیتے آئے ہیں کہ وہ شمالی کوریا کے اپنے بڑے اتحادی پر اثرو رسوخ استعمال کرتے ہوئے اُسے قائل کریں کہ وہ اپنی اشتعال انگیزیوں سے باز آئے۔

تاہم، چین نے ہفتے کے روز ایسا کوئی عندیہ نہیں دیا کہ وہ اپنے ہمسائے پر دباؤ بڑھائے گا۔

نامہ نگاروں سے بیان میں ریاست کے کونسلر، یانگ جیچی نے چین کے پرانے مؤقف کو دہرایا کہ اس بات کا حل بات چیت ہے، نہ کہ تعزیرات جیسے سخت اقدام کرنا ہے۔

اُن کے بقول، چین دوسرے متعلقہ فریقوں کے ساتھ، جِن میں امریکہ بھی شامل ہے، چھ فریقی مذاکرات کو فروغ دینے کے لیے تعمیری کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

یہ مذاکرات جن میں میزبان چین، امریکہ، جاپان، روس، جنوبی کوریا اور شمالی کوریا شامل ہیں، 2008ء سے تعطل کا شکار رہے ہیں۔
XS
SM
MD
LG