رسائی کے لنکس

تنازعات سے گریز، امریکہ چین فوجی تعاون بڑھانے پر زور


پینٹاگان نے پچھلے ہفتے ہونے والی چین کے پائلٹ کی حرکت کو ’جارحانہ‘ اور ’غیر پیشہ وارانہ‘ قرار دیا، اور کہا کہ پینٹاگان نے چینی جہاز کی اِس قسم کی حرکت پر ’سخت شکایت‘ درج کرائی ہے

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ گذشتہ ہفتےنگرانی پر مامور ایک امریکی طیارے اور چینی لڑاکا جہاز کے درمیان قریبی پرواز کے معاملے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دونوں کے درمیان فوجی تعاون اور پھر ایسی کسی صورت حال درپیش آنے سے بچنے کے لیے، ضابطے وضع کرنے کی ضرورت ہے۔

پینٹاگان کا کہنا ہے کہ امریکی طیارہ بین الاقوامی فضائی حدود میں پرواز کر رہا تھا، جو چین کے مشرقی ہائینان کے جنوبی جزیرے سے تقریباً 200 کلومیٹر کے فاصلے پر تھا، جس واقعے کا چینی طیارے کو گذشتہ منگل کو سابقہ پڑا۔

پینٹاگان کے ترجمان، جان کِربی نے کہا ہے کہ یہ طیارہ امریکی جہاز سے تین گنا اوپر کے فاصلے سے گزرا اور بظاہر جہاز کے نچلے حصے پر موجود ہتھیاروں کی نمائش مقصود تھی۔ اُنھوں نے کہا کہ ایک لمحے کے لیے، طیارے کے پَر امریکی جہاز کے نو میٹر کے فاصلے پر تھے۔

کِربی نے چین کے پائلٹ کی اس حرکت کو ’جارحانہ‘ اور ’غیر پیشہ وارانہ‘ قرار دیا، اور کہا کہ پینٹاگان نے چینی جہاز کی اِس قسم کی حرکت پر ’سخت شکایت‘ درج کرائی ہے۔

چینی وزارت دفاع نے اس نکتہ چینی کو ’بالکل بے بنیاد‘ قرار دیا ہے۔

ایک بیان میں، اُس نے زور دے کر کہا ہے کہ پائلٹ نے پیشہ وارانہ طرزِ عمل اختیار کیا اور محفوظ فاصلہ رکھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے پر اگر کوئی الزام کی صورت بنتی ہے تو وہ امریکی طیارے پر عائد ہوتی ہے اور امریکہ سے مطالبہ کیا
کہ چین کے زریب نگرانی کے مشنز بند کیے جائیں۔


ایسے ہی ایک واقعہ 2001ء میں بھی پیش آچکا ہے جب چینی پائلٹ کی طرف سے اِسی قسم کی ہی ایک حرفت کے نتیجے میں چینی لڑاکا جہاز اور امریکی بحریہ کے جاسوسی طیارے کی فضا میں ٹکر ہوگئی تھی۔ اس حادثے میں چینی پائلٹ ہلاک ہوا تھا اور امریکی طیارہ ہائینان میں ہنگامی لینڈنگ پر مجبور ہوا تھا، جس کے نتیجے میں ایک اہم سفارتی بحران پیدا ہوگیا تھا۔

متعدد دفاعی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اُنھیں اِس بات کا خدشہ ہے کہ اِس طرح کے کئی فضا ئی حادثات واقع ہوسکتے ہیں، کیونکہ چین کی فوج مضبوط تر ہوتی جارہی ہے اور اپنے علاقےسے قریب امریکی فوجی موجودگی پر چین مزید غیر مطمئن ہوتا جارہا ہے۔

کیری براؤن بیجنگ میں مقیم ایک سابق برطانوی سفارت کار ہیں، جو اِس وقت ’یونیورسٹی آف سِڈنی‘ میں چین سے متعلق تدریسی مرکز کے سربراہ ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ چین محسوس کرتا ہے کہ اپنی سرحدوں کے اندر اُسے کچھ اسٹریٹجک حقوق حاصل ہیں ۔ وہ امریکی سرحدوں کے قریب اپنے جہاز نہیں چلاتا، اس بنا پر وہ محسوس کرتا ہے کہ ایسا کیوں ہے کہ امریکی افواج ہم سے اتنا قریب کیوں ہیں؟

براؤن نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اس طرح کے قریب تر واقعات انتہائی خطرناک ہیں، نہ صرف پائلٹوں اور دیگر ملوث افواج کے لیے، بلکہ سفارتی طور پر یہ واقعات کنٹرول سے باہر چلے جائیں گے۔

دونوں، امریکی اور چینی اہل کاروں نے عام مطالبہ کیا ہے کہ مزید فوجی تعاون اور مکالمہ ہونا چاہیئے تاکہ تناؤ میں کمی کی جاسکے اور ایک دوسرےپر بھروسے میں اضافہ کیا جاسکے، اورزیادہ تر کا کہنا ہے کہ اس محاذ پر خاصی پیش رفت ہو رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG