رسائی کے لنکس

چین کے ساتھ تعاون کی بنیاد پر تعلقات چاہتے ہیں: صدر اوباما


صدر براک اوباما (فائل فوٹو)

صدر براک اوباما (فائل فوٹو)

اس خواہش کا اظہار وائٹ ہاؤس سے جاری ایک بیان کے مطابق صدر اوباما اور ان کے چینی ہم منصب ژی جنپنگ کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت میں کیا گیا۔

امریکہ کے صدر براک اوباما کا کہنا ہے کہ وہ چین سے تعلقات مزید تعاون اور اختلافات کو بہتر انداز میں نمٹانے پر مببی چاہتے ہیں۔

اس خواہش کا اظہار وائٹ ہاؤس سے جاری ایک بیان کے مطابق صدر اوباما اور ان کے چینی ہم منصب ژی جنپنگ کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت میں کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے ایران و شمالی کوریا کے جوہری پروگرام سمیت مشترکہ علاقائی اور عالمی چلینجز پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

مسٹر اوباما کا کہنا تھا کہ تہران کو ہر حالت میں یہ ثابت کرنا ہے کہ اس کا جوپری پروگرام ’’پرامن مقاصد‘‘ کے لیے ہیں۔ جینیوا میں ہونے والے مذاکرات میں امریکی اور چین میں بڑے پیمانے پر تعاون کے مطالبے کے ساتھ ساتھ امریکی صدر نے دونوں ممالک کے درمیان ’’زیادہ روابط اور تعاون‘‘ پر زور دیا تاکہ یقینی بنایا جا سکے کہ شمالی کوریا جوہری اسلحہ کے تخفیف سے متعلق اپنے وعدے پورے کرے۔

ٹیلی فون پر یہ بات چیت دونوں ملکوں کے اعلیٰ رہنماؤں کے گزشتہ ہفتے مذاکرات کے بعد سامنے آئی جس میں وائٹ ہاؤس کے مطابق ’’اہم پیش رفت‘‘ ہوئی۔

واشنگٹن اور بیجنگ میں کمپیوٹر ہیکنگ کے الزامات اور چین کے بحری تنازعات کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات تناؤ کا شکار رہے ہیں۔

گزشتہ ہفتے ہونے والے مذاکرات میں امریکی عہدیداروں نے تنبیہہ کی تھی کہ مشرقی و جنوبی بحیرہ چین میں بیجنگ کے بڑھتے ہوئے متنازع دعوے اس کے اپنے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تصادم کے خدشات کو جنم دے رہے ہیں۔

واشنگٹن کا کہنا ہے کہ ان تنازعات میں وہ کسی فریق کی حمایت نہیں کرتا تاہم چین کے علاوہ متعدد ملکوں سے امریکہ کے قریبی فوجی تعلقات ہیں۔

مذاکرات میں چین پر ہیکنگ کے امریکی الزامات کے حل پر بظاہر بہت کم پیش رفت ہوئی۔

بیجنگ نے الزامات کو مسترد کیا اور سابق امریکی سیکورٹی کنٹریکٹر ایڈورڈ اسنوڈن کے انکشافات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے واشنگٹن پر چینی اہداف پر جاسوسی کے الزامات عائد کئے۔

XS
SM
MD
LG