رسائی کے لنکس

امریکہ نے چین کے ساتھ کشیدگی کی اطلاعات کو زیادہ اہمیت نہیں دی


امریکہ چین معیشت

امریکہ چین معیشت

رابرٹ گِبز نےجمعرات کےروزکہا ہےکہ جن متنازع مسائل کو اب اٹھایاجارہا ہے، اُن سب پرپہلے غوروخوض ہوچکا ہے

امریکہ نے چین کے ساتھ بڑھتی ہوئى کشیدگی کی اطلاعات کی اہمیت کو گھٹاتے ہوئے کہاہے کہ دونوں ملک باہمی دلچسپی کے مسائل پر مل کر کام کریں گے ۔ لیکن بعض اوقات وہ ایک دوسرے سے اتفاق نہیں کرتے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گِبز نے جمعرات کے روزکہا ہے کہ جن متنازع مسائل کو اب اٹھایا جارہا ہے ، اُن سب پر پہلے غوروخوض ہوچکا ہے۔

گبز نے کہا ہے کہ امریکہ کے صدر براک اوباما نے نومبر میں چین کے صدر ہُو چِن تھاؤ کو مطلع کردیا تھا کہ وہ تبّت کے جلا وطن روحانی لیڈر دلائى لاما سے ملاقات کریں گے۔ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی ہےکہ چین کی مخالفت کے باوجود، یہ ملاقات اسی مہینے وائٹ ہاؤس میں ہوگی۔

گِبز نے کہا ہے کہ صدر اوباما نے صدر ہُو کے ساتھ چین کی کرنسی کے مسئلے اور جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے بارے میں تبادلہ خیال کیا تھا۔

گِبز نے کہا ہے کہ ایران پر اُس کے جوہری پروگرام کی وجہ سے مزید پابندیاں عائد کرنے پر چین کے تامّل کی اطلاعات کے باوجود، انہیں یقین ہے کہ چین ،ایران سے متعلق اس ”اگلے اہم قدم“ پر امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ اس سے چین کا مفاد بھی وابستہ ہے۔

اس سے پہلے چین نے صدر اوباما کے اس وعدے کو ردّ کردیا تھا کہ وہ تجارت اور کرنسی کے مسائل پر ایشیا کی اس بڑی اقتصادی طاقت کے بارے میں کوئى زیادہ سخت موقف اختیار کریں گے۔

چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ما چاؤ سُو نے جمعرات کے روز نامہ نگاروں سے کہا تھا کہ ”الزامات اور دباؤ“ سے اُس مسئلے کو حل کرنے میں مدد نہیں ملے گی، جس کے نتیجے میں امریکہ کے ساتھ تجارت میں چین کا فاضل توازن اس قدر بڑھ گیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ کرنسی کی شرحِ تبادلہ ، تجارتی خسارے کا سبب نہیں ہے اور انہوں نے اس اُمید کا اظہار کیا کہ امریکہ ، تجارت اور کرنسی کے مسائل کا ”کسی متوازن اور منصفانہ روشنی “ میں جائزہ لے گا۔

مسٹر اوباما نے بدھ کے روز کہا تھا کہ اُن کی انتظامیہ دو طرفہ انداز میں اپنی منڈیوں کو کھولنے کے لیے چین اور دوسرے ملکوں پر مسلسل دباؤ ڈالنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

XS
SM
MD
LG