رسائی کے لنکس

امریکی، چینی بحری جنگی جہازوں کا ممکنہ ٹکراؤ ٹل گیا


(فائل فوٹو).

(فائل فوٹو).

امریکی عہدیداروں کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ 5 دسمبر کو پیش آیا جب یو ایس ایس کاؤپنز نامی جہاز بین الاقوامی پانیوں میں تھا اور اس کے قریب ہی چین کا واحد طیارہ بردار بیڑے لیاننگ بھی موجود تھا۔

امریکی وزارت دفاع کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے اس کے گائیڈڈ میزائل سے لیس بحری جہاز نے مشرقی بحیرہ چین میں چینی جنگی بحری جہاز سے ٹکراؤ سے بچنے کے لیے پہلوتہی سے کام لیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ 5 دسمبر کو پیش آیا جب یو ایس ایس کاؤپنز نامی جہاز بین الاقوامی پانیوں میں تھا اور اس کے قریب ہی چین کا واحد طیارہ بردار بیڑے لیاننگ بھی موجود تھا۔ بیجنگ کی جانب سے اب تک اس واقعے پر کسی قسم کا تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔

امریکہ کے پیسفک فلیٹ کے ہیڈکواٹرز سے جمعہ کو جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ پھر ایک اور چینی جنگی جہاز کی کاؤپنز کے قریب نقل و حرکت دیکھی گئی۔ فوجی روزنامے میں ایک اہلکار کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ ریڈیو رابطے کے ذریعے اس ممکنہ ٹکراؤ سے بچنے کے لیے چینی جہاز نے کاؤپنز متنبہ کرنے کی کوشش بھی کی۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا جب چین اور دیگر علاقائی ممالک میں بحیرہ چین کے مشرق و جنوب میں ایک خطے پر تناؤ شدت اختیار کر چکا ہے۔

چین نے حال ہی میں اپنا طیارہ بردار بحری بیڑہ لیاننگ اس علاقے میں تعینات کیا ہے تاکہ جاپان کے زیر تسلط جزائر پر اپنے دعوے کو مزید تقویت دی جا سکے۔ چین کا اپنے ہمسائے جنوبی کوریا کے ساتھ بھی ایک ایسا ہی تنازع چل رہا ہے۔

گزشتہ ماہ ہی بیجنگ نے جاپان کے ان زیر تسط جزیروں پر یک طرفہ طور پر اپنی فضائی حدود وضع کرنے کا اعلان کیا اور غیر ملکی جہازوں سے اس میں داخل ہونے سے پہلے چین سے اجازت حاصل کرنے کی ہدایت کی۔

امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان نے اس حکم کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے حالیہ ہفتوں میں اس فضائی حدود میں اپنے جنگی طیارے بھیجے۔

چین نے ان پروازوں کو نہیں روکا مگر اپنے جنگی طیارے ان جہازوں کے تعقب کے لیے بھیجے جس سے ممکنا فضائی ’’بھول چوک‘‘ سے متعلق تشویش بڑھ گئی۔

جمعہ کے امریکی بیان میں کہا گیا کہ بحری سرگرمیوں میں دو افواج کی اس حد تک قرابت عام نہیں اس لیے ’’انتہائی ضروری ہے کہ میری ٹائم سے متعلق تمام بحری افواج بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کریں‘‘
XS
SM
MD
LG