رسائی کے لنکس

گزشتہ نومبر میں انتخابات میں کامیابی کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے تائیوان کی صدر سے ٹیلی فون پر بات کی تھی، جس کی وجہ سے اُنھیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے صدر ژی جنپنگ جمعرات کو ٹیلی فون پر بات کی اور اُنھوں نے چین کی ’ون چائنہ‘ پالیسی کے احترام پر اتفاق کیا۔

وائٹ ہاؤس نے کہا کہ جمعرات کی شام کو دونوں راہنماؤں کے درمیان ہونے والے گفتگو "انتہائی خوشگوار" تھی اور دونوں راہنماؤں نے ایک دوسرے کو اپنے اپنے ملک کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔

گزشتہ نومبر میں انتخابات میں کامیابی کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے تائیوان کی صدر سے ٹیلی فون پر بات کی تھی، جس کی وجہ سے اُنھیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

چین، تائیوان کو اپنا صوبہ قرار دیتا ہے اور اس کا موقف ہے کہ اسے کسی دوسرے ملک کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات رکھنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

امریکہ نے تائیوان کے ساتھ 1979ء میں سفارتی تعلقات ختم کرنے کے بعد، چین کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر لیے تھے۔ اس فیصلے کے بعد سے امریکہ کے کسی بھی صدر یا نو منتخب صدر کا تائیوان کے کسی راہنما کے ساتھ اس طرح کا رابطہ کبھی بھی نہیں ہوا۔

1979ء میں امریکہ اور چین کی طرف سے جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ میں امریکہ نے بیجنگ کی قانونی حکومت تسلیم کرتے ہوئے، چین کے اس موقف کو بھی تسلیم کیا تھا کہ صرف ایک چین ہے اور تائیوان چین کا حصہ ہے۔

ٹرمپ نے امریکہ کا صدر منتخب ہونے کے بعد اگرچہ کئی عالمی راہنماؤں سے فون پر گفتگو کی تھی لیکن تائیوان کی صدر سائی انگ ون سے ہونے والی بات چیت پر منتخب صدر کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

بعد ازاں ٹوئٹر پر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "یہ بہت دلچسپ امر ہے کہ امریکہ تائیوان کو اربوں ڈالر کا فوجی سازوسامان فروخت تو کرتا ہے لیکن مجھے تہنیتی (فون) کال قبول نہیں کرنی چاہیئے تھی۔"

چین کے اعتراض کے باوجود سابق صدر براک اوباما نے تائیوان کو 1.83 ارب ڈالر کے دفاعی سازوسامان بشمول فریگیٹ، طیارہ شکن اور بحری شکن ںظام کی فروخت کی منظوری دی تھی۔

XS
SM
MD
LG