رسائی کے لنکس

سائبر امور پر امریکہ اور چین کے عہدیداروں کی بات چیت مکمل


فائل فوٹو

فائل فوٹو

سائبر سکیورٹی کا معاملہ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان ایک اختلافی معاملہ ہے، امریکہ کا الزام ہے کہ چینی ہیکرز امریکی کمپیوٹروں پر حملہ کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف چین اس الزام کو مسترد کرتا ہے۔

امریکہ اور چین کے اعلیٰ عہدیداروں نے اس ماہ کے اواخر میں چینی صدر شی جنپنگ کے واشنگٹن کے سرکاری دورے سے پہلے سائبر سکیورٹی اور دوسرے معاملات پر چار روزہ بات چیت مکمل کر لی ہے۔

اس بات کی تصدیق وائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری ایک بیان میں کی گئی ہے۔

سائبر سیکورٹی واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان ایک اختلافی معاملہ ہے، امریکہ کا الزام ہے کہ چینی ہیکرز امریکی کمپیوٹروں پر حملہ کرتے ہیں جب کہ دوسری طرف چین اس الزام کو مسترد کرتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے بیان کے مطابق امریکہ کی قومی سلامتی کی مشیر سوزن رائس نے چین کے سیاسی اور قانونی معاملات کے مرکزی کمیشن کے سیکرٹری مینگ جیان زو کے ساتھ اس ہفتے ہونے والی ملاقات میں'سائبر معاملات پر دو ٹوک اور کھل کر بات کی"۔

بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ چینی وفد نے امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ڈائریکٹر جیمز کومی اور محکمہ خزانہ، انصاف اور انٹیلی جنس کے اداروں کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی۔

صدر براک اوباما نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ جب وہ صدر شی سے واشنگٹن میں ملاقات کریں گے تو وہ سائبر سکیورٹی کے متعلق چینی رویے پر بات کریں گے۔

امریکہ کے کئی عہدیدار یہ کہ چکے ہیں کہ امریکی انتظامیہ ان چینی افراد اور کمپنیوں کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کے بارے میں غور کر رہی ہے جو مبینہ طور پر امریکی تجارتی کمپنیوں کو سائبر حملوں سے نشانہ بناتے ہیں۔

مبینہ طور پر چینی ہیکر امریکی وفاقی ملازمین کے متعلق معلومات رکھنے والے ادارے پر بڑے پیمانے پر سائبر حملے کر چکے ہیں جس کا انکشاف اس سال کیا گیا تھا۔ ان حملوں کے دوران لاکھوں سرکاری ملازمین کی معلومات اور ان کی سکیورٹی کلیئرنس جاری کرنے والی وفاقی ایجنسی پر دو بار بڑے سائبر حملےکیے گئے جس سے وفاقی ملازمیں کے متعلق ڈیٹا متاثر ہو سکتا تھا۔

XS
SM
MD
LG