رسائی کے لنکس

صدر اوباما کو نئے وزیر خارجہ کی تلاش

  • اسکاٹ اسٹیرنس

ہلری کلنٹن

ہلری کلنٹن

وزیرخارجہ کلنٹن نے اپنے عہدے سے دستبردار ہونے کا فیصلے اس سال کے شروع میں کیا تھا۔ انھوں نے محکمۂ خارجہ کے ملازمین سے کہا تھا کہ انہیں آرام کی ضرورت ہے۔

امریکی وزیرخارجہ ہلری کلنٹن نے کہا ہے کہ اب جب کہ صدر براک اوباما اپنے عہدے کی دوسری مدت شروع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، وہ اپنے عہدے سے دستبردار ہو جائیں گی۔

وزیرخارجہ کلنٹن نے اپنے فیصلے کا اعلان اس سال کے شروع میں کیا تھا۔ انھوں نے محکمۂ خارجہ کے ملازمین سے کہا تھا کہ انہیں آرام کی ضرورت ہے۔

’’میں یقیناً اس وقت تک کام کرتی رہوں گی جب تک صدر کسی کو نامزد نہیں کرتے اور عہدے کی منتقلی مکمل نہیں ہو جاتی لیکن میرے خیال میں 20 برس امریکی سیاست اور اس کے چیلنجوں میں سرگرم رہنے کے بعد، شاید یہ اچھا ہو گا کہ یہ معلوم کیا جائے کہ میں کتنی تھک گئی ہوں۔‘‘

صدر کے دوبارہ منتخب ہونے کے بعد، امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نلینڈ نے کہا کہ منصوبہ اب بھی یہی ہے۔

’’آپ نے انہیں کئی بار یہ کہتے سنا ہوگا کہ وہ اپنے کسی جانشین کے عہدہ سنبھالنے تک کام کریں گی اور پھر نجی زندگی میں واپس چلی جائیں گی ، آرام کریں گی, پرانی باتوں پر غور کریں گی اور لکھنے پڑھنے کا کام کریں گی۔‘‘

سوال یہ ہے کہ صدر اوباما ان کی جگہ کس کا انتخاب کریں گے؟ ریاست میسا چوسٹس کے سینیٹر جان کیری کا نام سرِفہرست ہے ۔

سینیٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے، وہ بیرونی دنیا میں امریکی پالیسی میں سرگرم ہیں، خاص طور سے پاکستان اور افغانستان میں۔ وہ صدارت کے سابق امید وار رہ چکے ہیں، اور ان کا نام جانا پہچانا ہے۔

صدر اوباما نے ریپبلیکن امیدوار مٹ رومنی کے ساتھ مباحثے کی مشق کے لیے انہیں کا انتخاب کیا تھا اور اوباما کی انتخابی مہم نے رومنی کے خلاف وڈیو میں انہیں استعمال کیا تھا۔

کیری کی سینیٹ کی نشست ان کے لیے رکاوٹ ثابت ہو سکتی ہے۔ جو بھی صدر کسی سینیٹر کو اپنی کابینہ میں کسی عہدے کے لیے منتخب کرتا ہے وہ اس بات پر غور کرتا ہے کہ کیا حکمران پارٹی مجلسِ قانون ساز میں وہ نشست بر قرار رکھ سکتی ہے، خاص طورسے ایسی صورت میں جب سینیٹ میں اکثریت اتنی معمولی ہو۔

اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر سوزن رائس ایک اور مضبوط امیدوار ہیں جو کلنٹن کی جگہ لینا چاہتی ہیں۔

نیو یارک میں ہونے والی بیشتر سفارتکاری ان واقعات کا عکس ہوتی ہے جو اس وقت دنیا میں ہو رہے ہیں۔ لہٰذا اقوامِ متحدہ میں سفیر کی حیثیت سے کام کرنا وزیرِ خارجہ بننے کے لیے اچھی ٹریننگ ہوتی ہے، میڈلین البرائٹ اسی طرح وزیرِ خارجہ بنی تھیں۔

لیکن رائس کی نامزدگی سے سینیٹ میں ریپبلیکنز کو ستمبر میں اوباما انتظامیہ پر تنقید کا موقع مل جائے گا۔ لیبیا کے شہر بن غازی میں امریکی مشن پر حملے میں امریکی سفیر کرس سٹیونز سمیت چار امریکی ہلاک ہو گئے تھے۔

ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے جس سے بن غازی میں سیکورٹی کے انتظامات سے رائس کا کوئی تعلق نظر آئے، لیکن حملے کے بعد، رائس نے بار بار اس دعوے کو دہرایا کہ مظاہرین کے تشدد کی وجہ وہ انٹرنیٹ وڈیو تھا جس میں پیغمبر اسلام کی توہین کی گئی تھی ۔ تا ہم بعد کے واقعات میں، اس بیان کو واپس لے لیا گیا ۔

ماؤلو انوسنٹ واشنگٹن کے کیٹو انسٹیٹویٹ میں خارجہ پالیسی کی تجزیہ کار ہیں۔
’’عسکریت پسندوں کی طرف سے حملے کے سلسلے میں ابھی بہت سے سوالات کا جواب نہیں ملا ہے اور میں سمجھتی ہوں کہ یہ بڑی دشواری ثابت ہو سکتی ہے ۔ تا ہم اس کے باوجود وزیرِ خارجہ کے عہدے کے لیے وہ اب بھی بڑی مضبوط امید وار ہیں۔‘‘

کلنٹن کی جگہ لینے کے لیے ایک اور مضبوط امیدوار ٹام ڈونیلون ہیں جو آج کل قومی سلامتی کے مشیر ہیں۔ یہ وہ عہدہ ہے جسے صدر کی خارجہ پالیسی کی تشکیل میں اہم مقام حاصل ہے۔ ہنری کسنجر، کولن پاول اور کونڈا لیز رائس، وزیرِ خارجہ بننے سے پہلے اسی عہدے پر فائز تھے۔
ٹام کو بل کلنٹن کی انتظامیہ میں کام کرنے کا تجربہ ہے جہاں انھوں نے نیٹو کو وسعت دینے اور 1995 کے ’ڈئیٹون اکارڈز‘ پر کام کیا تھا جن کی وجہ سے سابق یوگوسلاویہ میں لڑائی بند ہوئی۔
ماؤلو انوسنٹ کا ٹام کے بارے میں کہنا ہے ’’وہ صدر اوباما کی انسدادِ دہشت گردی کی پالیسیوں کی تشکیل میں بہت سرگرم تھے ۔ بہت سی چیزوں پر انہیں صدر کا اعتماد حاصل ہے ۔ تا ہم ان میں جس چیز کی کمی ہے وہ یہ ہے کہ وہ وزیرِ خارجہ کلنٹن کی طرح مشہور نہیں ہیں ۔ بین الاقوامی سطح پر انہیں کلنٹن جیسا مقام حاصل نہیں ہے جو دوسرے ملکوں کے ساتھ تعلقات کے لیے بہت اہم ہے۔‘‘

وزیرِ خارجہ کلنٹن کی دستبرداری کے لیے ابھی کوئی ٹائم ٹیبل مقرر نہیں کیا گیا ہے ۔ لیکن صدر اوباما اس سال کے ختم ہونے سے پہلے کسی کو نامزد کر سکتے ہیں تاکہ جب جنوری میں ان کی دوسری حلف برداری کا وقت آئے، تو نئے وزیرِ خارجہ اپنا عہدہ سنبھالنے کے لیے تیار ہوں۔
XS
SM
MD
LG