رسائی کے لنکس

گوما نامی شہر کے شمال میں فوج اور ’ایم 23‘ نامی باغی گروہ کے جنگجوؤں کے درمیان اتوار کو ہونے والی جھڑپوں میں دونوں فریقوں کو بھاری جانی نقصانات کا سامنا ہوا۔

عوامی جمہوریہ کانگو میں سرکاری فوج اور ’ایم 23‘ نامی باغی گروہ کے جنگجوؤں کے درمیان تازہ جھڑپوں پر امریکہ نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

گوما نامی شہر کے شمال میں اتوار کو ہونے والی جھڑپوں میں دونوں فریقین کو بھاری جانی نقصانات کا سامنا ہوا۔

گزشتہ ہفتے شروع ہونے والی جھڑپیں جولائی میں فوج کی جانب سے ’ایم 23‘ کے صدر دفاتر پر بمباری کے بعد پہلی بڑی کارروائی ہے۔ جولائی میں لڑائی کے دوران باغیوں کو گوما شہر سے کئی کلومیٹر پیچھے دھکیل دیا گیا تھا۔

امریکی محکمہ خارجہ نے اتوار کو جاری ہونے والے بیان میں کہا کہ تشدد کے حالیہ واقعات امریکہ کے لیے پریشانی کا باعث ہیں۔ بیان میں ’ایم 23‘ کے باغیوں کی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے انھیں بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

امریکہ نے عوامی جمہوریہ کانگو میں بر سر اقتدار حکومتوں اور ہمسایہ ملک روانڈا پر زور دیا ہے کہ ضبط کا مظاہرہ کیا جائے تاکہ صورتِ حال میں مزید بگاڑ اور شہریوں کے لیے ممکنہ خطرات سے بچا جا سکے۔

اقوام متحدہ سے منسلک ماہرین کا الزام ہے کہ روانڈا ’ایم 23‘ کی مدد کر رہا ہے، جب کہ روانڈا اس کی تردید کرتا ہے۔

’ایم 23‘ نے گزشتہ برس کچھ عرصہ کے لیے گوما پر قبضہ کر لیا تھا اور صوبہ شمالی کیوو کے کچھ علاقے تاحال اس کے زیرِ اثر ہیں۔ یہ گروہ سیاسی اثر و رسوخ اور علاقے میں معدنی کانوں کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے سرگرم ہے۔

’ایم 23‘ میں وہ سابق باغی شامل ہیں جنھیں 2009ء کے امن معاہدے کے بعد کانگولیز فوج میں ضم کیا گیا تھا۔ تاہم باغیوں نے امتیازی اور ناروا سلوک کی شکایت کرتے ہوئے فوج سے قطع تعلق کر لیا تھا۔
XS
SM
MD
LG