رسائی کے لنکس

فلسطینیوں کی زمین پر یہودی آبادکاری پر امریکہ کی تشویش


رملہ کے نزدیک یہودی آبادکاری کے لیے کی گئی تعمیرات

رملہ کے نزدیک یہودی آبادکاری کے لیے کی گئی تعمیرات

وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے بھی اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے وزرا پر الزام عائد کیا ہے کہ اس سے قبل کہ سپریم کورٹ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے یہ وزرا جلد بازی سے کام لے رہے ہیں۔

امریکہ نے اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کی زمین پر یہودی آبادکاری پر "شدید تشویش" کا اظہار کیا ہے۔

اسرائیلی حکومت کے وزرا کی ایک کمیٹی نے اتوار کو بل منظور کیا تھا جو کہ اب پارلیمان میں پیش کیا جائے گا اور ممکنہ طور پر اسے عدالت عظمیٰ سے بھی منظوری حاصل ہو جائے گی۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان الزبتھ ٹروڈو نے پیر کو واشنگٹن میں بتایا کہ "اگر یہ قانون نافذ ہو جاتا ہے تو یہ مغربی کنارے میں بہت سی غیرقانونی تعمیرات کو قانونی قرار دینے کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔"

ان کا کہنا تھا کہ "یہ اقدام غیر معمولی اور مشکلات کا باعث ہو گا جو کہ اسرائیل کے قبل ازیں موقف سے میل نہیں کھاتا اور ساتھ ہی اسرائیل کی اس دیرینہ پالیسی کے بھی خلاف ہے کہ وہ نجی فلسطینی زمین پر تعمیرات نہیں کرے گا۔"

ٹروڈو نے مزید کہا کہ یہودی آبادکاری "امن کے مقصد کے لیے مضر ہے"۔

اس متنازع اقدام کا مقصد سپریم کورٹ کی طرف سے 25 دسمبر تک مغربی کنارے میں امونا کی تعمیرات سے یہودیوں کے انخلا کے حکم کو روکنا ہے۔

یہ بل اسرائیل کی اتحادی حکومت میں بھی تقسیم کا باعث بنا ہے جس میں بعض مذہبی بنیاد پرست اس کی حمایت کر رہے ہیں تو دیگر اسے زمین ہتھیانے کی کوشش قرار دے کر اس کی مذمت کر رہے ہیں۔ گو کہ ان زمینوں کے لیے فلسطینی مالکان کو معاوضہ بھی ادا کیا جا رہا ہے۔

وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے بھی اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے وزرا پر الزام عائد کیا ہے کہ اس سے قبل کہ سپریم کورٹ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے یہ وزرا جلد بازی سے کام لے رہے ہیں۔

امریکہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس زمین پر کہ جسے فلسطینی اپنی مستقبل کی ریاست میں شامل کرنا چاہتے ہیں، یہودی آبادکاری کی مسلسل مذمت کرتے آ رہے ہیں۔ فلسطینیوں کے نزدیک یہ امن کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

XS
SM
MD
LG