رسائی کے لنکس

نائیجیریا میں ہلاکت خیز بم حملہ قابل مذمت ہے: امریکہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

جان کربے کا مزید کہنا تھا کہ "جیسا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ شمالی نائیجیریا کے لوگ تشدد اور دہشت سے آزاد زندگی گزارنے کا حق رکھتے ہیں۔"

امریکہ نے نائیجیریا میں ہونے والے بم حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے جس میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

منگل کو ریاست بورنو کے ایک مصروف بازار میں ہونے والے بم دھماکے میں کم ازکم 47 افراد مارے گئے تھے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربے نے کہا کہ گوکہ تاحال اس حملے کی ذمہ داری کسی گروپ نے قبول نہیں کی لیکن یہ ایک ایسے علاقے میں ہوا جہاں شدت پسند گروہ بوکو حرام حالیہ ہفتوں میں ہلاکت خیز حملے کر کے سینکڑوں لوگوں کو ہلاک کر چکا ہے۔

"ہم متاثرین کے لواحقین اور احباب سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم اس حملے میں ملوث عناصر اور گزشتہ واقعات کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے نائیجیریا کی کوششوں کی حمایت جاری رکھیں گے۔"

بیان میں جان کربے کا مزید کہنا تھا کہ "جیسا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ شمالی نائیجیریا کے لوگ تشدد اور دہشت سے آزاد زندگی گزارنے کا حق رکھتے ہیں۔"

منگل کی دوپہر کو جس وقت یہ بم دھماکا ہوا اس وقت لوگوں کی ایک بڑی تعداد سابون گری مارکیٹ میں خریدوفروخت میں مصروف تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے پیچھے مشتبہ طور پر بوکو حرام نامی شدت پسند تنظیم ہو سکتی ہے۔

یہ تنظیم حالیہ برسوں میں بم دھماکوں اور ہلاکت خیز حملوں کے علاوہ اغوا کی وارداتوں میں بھی ملوث رہی ہے۔ یہ نائیجیریا میں سخت گیر اسلامی قوانین کا نفاذ چاہتی ہے۔

نائیجیریا ایک اسلامی ملک ہے لیکن اس کے شمال میں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور جنوب میں مسیحی اکثریت میں ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ "امریکہ، نائیجیریا کی حکومت اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر بوکو حرام کے خلاف قریبی تعاون جاری رکھے گا۔

XS
SM
MD
LG