رسائی کے لنکس

ترکی اپنی توجہ داعش کے خلاف ’مرکوز‘ رکھے: ایش کارٹر


فائل فوٹو

فائل فوٹو

امریکہ کے وزیر دفاع ایش کارٹر نے ترکی سے کہا ہے کہ وہ امریکہ کے ایک حلیف کرد گروہ کے خلاف برسرپیکار ہونے کی بجائے اپنی توجہ شدت پسند گروپ ’داعش‘ پر مرکوز رکھے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کا حلیف گروپ بھی داعش کے خلاف سرگرم ہے۔

ترک فوج اور ان کے حلیف شامی باغی گزشتہ چھ دنوں سے ترکی کی سرحد کے قریب واقع شامی قصبے جرابلس اور اس کے نواح میں داعش کے جنگجوؤں اور کرد فورسز 'وائی پی جی' کو نکال باہر کرنے کی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ایش کارٹر نے پیر کو پینٹاگان میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ "امریکہ ترکی کی داعش کے خلاف عمومی کارروائیاں اور جرابلس کے مغرب میں جو کچھ وہ کرتے ہیں ان کی حمایت کرتا ہے، لیکن جرابلس کی جنوب میں نہیں۔"

کرد فورسز نے حال ہی میں جرابلس سے 40 کلومیٹر جنوب اور دریائے فرات کے مغرب میں واقع منبج کے شہر سے داعش کے عسکریت پسندوں کو نکال باہر کیا تھا۔

فائل فوٹو

فائل فوٹو

امریکہ کا کہنا ہے کہ کرد 'وائی پی جی' فورسز نے اس بات کی یقین دہانی کروائی ہے کہ منبج کو داعش کے جنگجوؤں سے صاف کرنے کے بعد وہ دریائے فرات کے مشرق کی طرف چلے جائیں گے۔

ایش کارٹر نے پیر کو کہا کہ وہ فورسز "پیچھے ہٹ جائیں گی اور وہ مشرق کی طرف منتقل ہو رہی ہیں"۔

انھوں نے کہا کہ "امریکہ مزید تصادم سے بچنے کے لیے ترکی پر واضح کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ ایس ڈی ایف (سرئین ڈیموکریٹک فورسز جن میں کرد جنگجو بھی شامل ہیں) کے ارکان کہاں موجود ہیں۔''

قبل ازیں پیر کو امریکہ نے کہا تھا کہ ترک فورسز اور امریکہ کے حمایت یافتہ کرد قیادت والے اتحاد کے درمیان جھڑپیں " ناقابل قبول" ہیں اور اس کی طرف سے تمام فریقوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ "فوری طور پر" ایک دوسرے سے پیچھے ہٹ جائیں۔

شام کے قصبے جرابلس کے جنوب میں ہونے والی حالیہ لڑائی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال پر پینٹاگان کے پریس سکریٹری پیٹر کوک نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ یہ ’’پہلے ہی بہت الجھا ہوا جنگی محاذ ہے"۔

انھوں نے مزید کہا کہ جہاں جھڑپیں ہو رہی ہیں وہاں اب داعش کی فورسز موجود نہیں ہیں۔

فائل فوٹو

فائل فوٹو

کک نے کہا کہ "امریکہ داعش کے خلاف ترکی کی حمایت کرنے پر تیار ہے لیکن وہ اس شدت پسند گروپ کو شکست دینے کے لیے ان فورسز کی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کرتا ہے جن کی قیادت کرد فورسز کر رہی ہیں"۔

پینٹاگان کے مطابق امریکہ کی فورسز نا تو جرابلس کے جنوب میں ہونے والی ترک فورسز کی فضائی کارروائیوں اور گولہ باری کرنے کی مہم میں شامل تھیں اور نا ہی ترک فورسز کے خلاف ہونے والی فائرنگ میں انہوں نے حصہ لیا۔

کک نے کہا کہ "امریکہ ان سرگرمیوں میں شامل نہیں تھا اور ناہی ان کے لیے امریکی فورسز کے ساتھ رابطہ کیا گیا تھا اور نا ہی ہم ان کی حمایت کرتے ہیں"۔

پینٹاگان کے پریس سیکرٹری نے ان جھڑپوں میں ایک ترک فوجی کے مارے جانے پر ترکی سے افسوس کا اظہار کیا اور انھوں نے داعش کے خلاف لڑائی میں متحد رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔

ترکی کے حمایت یافتہ شامی باغیوں نے اس علاقے میں کرد قیادت والی فورسز سے کم از کم چار دیہات اور ایک قصبے کا کنٹرول چھین لیا ہے۔ اس دوران یہ بھی اطلاعات سامنے آئی کہ ترک فضائی حملوں میں کم از کم 35 شہری مارے گئے۔

ترک فوج نے اتوار کو کہا کہ شمالی شام میں اس کی طرف سے کی جانی والی فضائی کارروائیوں میں کرد عسکریت پسند ہلاک ہوئے تاہم وہ اس بات سے انکار کرتی ہے کہ اس کارروائی میں عام شہری بھی ہلاک ہو ئے۔

ترک فوج کا یہ بھی کہنا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے تحت یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ عام شہریوں کا تحفظ کرے۔

ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اناتولیہ کا کہنا ہے کہ مارے جانے والے کرد عسکریت پسند ترکی میں سرگرم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) اور سرئین ڈیمو کریٹک ( پی وائی ڈی ) کے "دہشت گرد" تھے۔

شام میں ترکی کی فوجی مداخلت سے شام کی خانہ جنگی میں انقرہ کے کردار میں ڈرامائی طور اضافہ ہو گیا ہے۔

شمالی شام میں ہونے والی جھڑپوں کے بعد مغربی ممالک کی اس بارے میں تشویش میں اضافہ ہوا ہے کہ ترکی امریکہ کی حمایت یافتہ کرد فورسز 'کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس' ( وائی پی جی) کو نشانہ بنانا چاہتا ہے۔

جب کہ امریکہ ’وائی پی جی‘ کو داعش کے خلاف لڑائی میں اپنا سب سے زیادہ موثر اتحادی قرار دیتا ہے جب کہ ترکی کا مطالبہ ہے کہ ’وائی پی جی‘ اس سرحدی علاقے سے نکل جائے جو داعش کے عسکریت پسندوں سے چھینا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG