رسائی کے لنکس

امریکہ کی طرف سے بنگلہ دیشی سرگرم کارکن کے قتل کی مذمت


بنگلہ دیشی کی پولیس جائے وقوعہ سے لوگوں کو دور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

بنگلہ دیشی کی پولیس جائے وقوعہ سے لوگوں کو دور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

امریکہ کے بین الاقوامی ترقی کے ادارے میں کام کرنے والے زلہاز اپنے دوست محبوب ربی تنائے کے گھر تھے جب پانچ حملہ آور ڈاکیے کے بہروپ میں اندر داخل ہوئے اور ان پر کلہاڑیوں سے حملہ کر دیا۔

امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے بنگلہ دیش میں ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سرگرم کارکن زلہاز منان کے قتل کی مذمت کی ہے۔ زلہاز ڈھاکا میں امریکی سفارتخانے میں ملازم تھا۔

کیری نے پیر کو رات گئے ایک بیان میں کہا کہ ’’ہم تشدد کے ایسے بے معنی اقدام میں اپنے ہی ایک ساتھی سے محروم ہونے پر انتہائی دکھی ہیں۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ زلہاز ’’بنگلہ دیش کے عوام کی روح اور اس فخر کی عکاسی کرتا تھا جس کے ساتھ وہ رواداری، امن اور تنوع کی روایات کا تحفظ کرتے ہیں۔‘‘

زلہاز ہم جنس پرستوں اور جنس تبدیل کرنے والے افراد کے حقوق کے لیے نکالے جانے والے واحد میگزین ’روپ بان‘ کے مدیر بھی تھے۔

امریکہ کے بین الاقوامی ترقی کے ادارے میں کام کرنے والے زلہاز اپنے دوست محبوب ربی تنائے کے گھر تھے جب پانچ حملہ آور ڈاکیے کے بہروپ میں اندر داخل ہوئے اور ان پر کلہاڑیوں سے حملہ کر دیا۔

پینتیس سالہ زلہاز اور ان کے 26 سالہ دوست محبوب موقعے پر ہی ہلاک ہو گئے۔ محبوب بھی ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے کام کرتے تھے اور تھیٹر سے وابستہ تھے۔

اگرچہ پولیس نے حملہ آوروں کی شناخت نہیں کی مگر ڈھاکہ کی میٹروپولیٹن پولیس کے کمشنر اسد الزماں میاں نے کہا کہ یہ ہدف بنا کر قتل کا واقعہ ہے۔

’’ہم نے موقعے سے اہم شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور ہم قاتلوں کی جلد شناخت کر کے انہیں گرفتار کر لیں گے ۔۔۔ کچھ شدت پسند آج کی ہلاکتوں کے پیچھے ہو سکتے ہیں۔‘‘

حملہ آوروں کو پکڑنے کی کوشش میں ایک پولیس اہلکار اور ایک محافظ بھی کلہاڑیوں کے وار سے زخمی ہوا۔

کئی عینی شاہدین نے پولیس کو بتایا کہ حملہ آور ’اللہ اکبر‘‘ کے نعرے لگاتے ہوئے فرار ہو گئے۔ یہ قتل گزشتہ چند سالوں میں بنگلہ دیش کے سیکولر بلاگ مصنفوں اور سرگرم کارکنوں کے قتل سے ملتے جلتے ہیں۔

اس ماہ کے اوائل میں زلہاز منان نے کہا تھا کہ اس کی سرگرمیوں پر اسے شدت پسندوں کی طرف سے آن لائن دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔

XS
SM
MD
LG