رسائی کے لنکس

فلسطینی نوجوان کی ہلاکت پر امریکہ کا اظہارِ تشویش


مشرقی یروشلم میں مشتعل فلسطینیوں اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔

مشرقی یروشلم میں مشتعل فلسطینیوں اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔

شبہ ہے کہ محمد حسین ابو خضیر نامی فلسطینی کو ان تین اسرائیلی نوجوانوں کے بدلے میں قتل کیا گیا ہے جن کے اغوا اور قتل کا الزام اسرائیل نے 'حماس' پرعائد کیا ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے فلسطینی نوجوان کے اغوا اور قتل کو "بہیمانہ اور وحشیانہ" عمل قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی ہے۔

فلسطینی نوجوان کی لاش بدھ کو علی الصباح یروشلم کے نزدیک ایک جنگل سے برآمد ہوئی ہے۔ حکام کے مطابق نوجوان کی عمر 16 یا 17 سال تھی۔

لاش ملنے سے کئی گھنٹے قبل اسرائیلی حکام کو اطلاع ملی تھی کہ نامعلوم افراد یروشلم کے ایک عرب علاقے میں قائم ایک مسجد کے باہر سے ایک فلسطینی نوجوان کو زبردستی گاڑی میں ڈال کر لے گئے ہیں۔

شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ محمد حسین ابو خضیر نامی فلسطینی کو ان تین اسرائیلی نوجوانوں کے بدلے میں قتل کیا گیا ہے جن کے اغوا اور قتل کا الزام اسرائیل نے فلسطینی مزاحمتی تنظیم 'حماس' پرعائد کیا ہے۔

بدھ کو جاری کیے جانے والے مذمتی بیان میں امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ ایک 17 سالہ معصوم نوجوان کا سڑک سے اغوا اور پھر اس کی جان لینے کا عمل انتہائی تکلیف دہ ہے جس پر فلسطین کے لوگوں کے ساتھ تعزیت کے لیے "ہمیں الفاظ نہیں مل رہے۔"

اس سے قبل 'وہائٹ ہاؤس' کے ترجمان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ کے پاس فی الحال ایسی کوئی اطلاع نہیں جس سے یہ تصدیق ہوسکے کہ فلسطینی نوجوان کو اسرائیلی لڑکوں کے بدلے میں ہی قتل کیا گیا ہے۔

ترجمان جوش ارنسٹ نے فلسطین اور اسرائیل، دونوں کی حکومتوں سے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا تھا اور کہا تھا کہ امریکہ کی خواہش ہے کہ فریقین حالیہ واقعات کے ذمہ داروں کا انصاف کے کٹہرے میں لانے اور اس طرح کے پرتشدد واقعات روکنے کےلیے تمام ضروری اقدامات کریں۔

اس سے قبل اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو نے فلسطینی نوجوان کے اغوا اورقتل کی فوری تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے پولیس کو ہدایت کی تھی کہ وہ واقعے کے ذمہ داران کا پتا لگائے۔

فلسطین کے صدر محمود عباس نےبھی اسرائیلی وزیرِاعظم کو ٹیلی فون کرکے نوجوان کے قتل کی مذمت کی ہے اور اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ابو خضیر کی لاش ملنے کے بعد فلسطینی علاقوں میں پہلے سے موجود کشیدگی میں شدت آگئی ہے اور مشرقی یروشلم میں مشتعل فلسطینیوں اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔

مغربی کنارے کے شہر جنین میں بھی اسرائیلی سکیورٹی اداروں اور فلسطینویں کے درمیان جھڑپیں ہونے کی اطلاعات ہیں۔

اسرائیلی پولیس نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ فلسطینی نوجوان کی ہلاکت یہودی نوجوانوں کے قتل کا بدلہ یا عرب قبیلوں کی آپس کی دشمنی کا نتیجہ بھی ہوسکتی ہے۔

یروشلم کےپولیس کمشنر یوحنان دانینو نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ قتل کی اس واردات سے متعلق قیاس آرائیوں سے گریز کریں اور تحقیقات مکمل ہونے کا انتظار کریں۔

اسرائیلی نوجوانوں کو 12 جون کو فلسطین کے علاقے مغربی کنارے میں قائم یہودی آبادکاروں کی ایک بستی سے اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ اسکول سے گھر لوٹ رہے تھے۔

نوجوانوں کی لاشیں پیر کو فلسطین کے شہر ہیبرون کے نزدیک سے برآمد ہوئی تھیں۔ یہودی نوجوانوں کے اغوا کے بعد سے اسرائیل نے فلسطینی علاقوں میں بڑے پیمانے پر چھاپہ مار کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں جن کے دوران اب تک سیکڑوں فلسطینیوں کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔

یہودی نوجوانوں کے اغوا اور اسرائیل کی جوابی کارروائیوں کے باعث علاقے میں کشیدگی عروج پر ہے جس میں نوجوانوں کی لاشیں ملنے کے بعد مزید شدت آگئی ہے۔ اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے 'حماس' سے ان ہلاکتوں کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے اسرائیلی نوجوانوں کے اغوا کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کی تھی۔

XS
SM
MD
LG