رسائی کے لنکس

جنرل راحیل نے نائب امریکی وزیر دفاع رابرٹ ورک اور امریکی میرینز کور کے کمانڈر جنرل جوزف ڈنفورڈ سے بھی ملاقاتیں کیں۔

پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کو امریکہ کا معتبر عسکری میڈل "لیجن آف میرٹ" سے نوازا گیا ہے۔

جنرل راحیل ان دنوں امریکہ کے دورے پر ہیں جہاں ان کی اعلیٰ امریکی عسکری قیادت سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انھیں یہ میڈل ان کی دلیرانہ قیادت اور جنوب ایشیائی خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کے صلے میں دیا گیا۔

پاکستانی آرمی چیف نے امریکہ کے چیئرمین جوائنٹس چیفس آف اسٹاف جنرل مارٹن ڈیمپسی سے ملاقات کی جس میں فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ کے مطابق دوطرفہ دفاعی تعاون سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترجمان کے بقول ملاقات میں سلامتی اور فوجی سطح کے طویل المدت اور پائیدار تعلقات پر توجہ مرکوز رہی جب کہ افغانستان کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔

جنرل راحیل نے نائب امریکی وزیر دفاع رابرٹ ورک اور امریکی میرینز کور کے کمانڈر جنرل جوزف ڈنفورڈ سے بھی ملاقاتیں کیں۔

امریکی وزیردفاع چک ہیگل ان دنوں ملک میں نہیں ہیں اس لیے جنرل راحیل کی ان سے ملاقات نہیں ہو سکی۔

امریکی محکمہ دفاع "پینٹاگون" پہنچنے پر جنرل راحیل شریف کو گارڈ آف آنر اور 'گن سلیوٹ' بھی پیش کیا گیا۔

جنرل راحیل 2010ء کے بعد امریکہ کا دورہ کرنے والے پہلے پاکستانی آرمی چیف ہیں۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت ہو رہا ہے جب پاکستان نے اپنے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی میں شدت پسندوں کے خلاف بھرپور فوجی کارروائی شروع کر رکھی ہے۔

ان کارروائیوں میں 1200 سے زائد شدت پسند مارے جا چکے ہیں جب کہ ان کے متعدد ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے علاوہ ان کے زیر استعمال اسلحہ و بارود کے بڑے ذخائر کو قبضے میں لیا گیا ہے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی امتیاز کے بغیر تمام دہشت گردوں کے خلاف یہ کارروائیاں کر رہا ہے۔

افغانستان سے آئندہ ماہ کے اواخر تک بین الاقوامی افواج کے انخلا اور وہاں محدود تعداد میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کے تناظر میں بھی جنرل راحیل شریف کے دورے کو خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ خطے خصوصاً افغانستان کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں امریکہ اور پاکستان کے مابین عسکری تعلقات اور روابط میں مضبوطی بہت ضروری ہے۔

XS
SM
MD
LG