رسائی کے لنکس

میرس وائرس پہلی دفعہ ستمبر 2012 میں ظاہر ہوا تھا اور اب تک جن لوگوں میں اس وائرس کی تصدیق ہو ئی ہے ان کا تعلق مشرق وسطیٰ کے چھ ملکوں سے ہے۔

امریکی ادارہ برائے انسداد امراض یعنی سی ڈی سی کی طرف سے امریکہ میں مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سنڈروم کورونا وائرس یا میرس کے پہلے کیس کی تصدیق کی گئی ہے۔

سی ڈی سی کے حکام نے جمعہ کو کہا کہ ریاست انڈیا نا میں امریکی محکمہ صحت کے ایک اہلکار میں اس وائرس کی موجودگی کی تصدیق کے بعد اس کو اسپتال میں منتقل کر دیا گیا جہاں اس کی طبیعت بہتر ہے۔ مریض کو دوسرے مریضوں سے الگ رکھا گیا ہے۔

نیشنل امیونائزیشن اور سانس کی بیماریوں کے ڈائریکٹر اینی سکوشٹ کا کہنا ہے کہ یہ کیس بڑی تیزی سے ظاہر ہوا ہے اور سی ڈی سی ان لوگوں کو نشاندہی کے لیے کام کر رہی ہے جو مریض سے رابطے میں تھے۔

سکوشٹ کا کہنا تھا کہ مریض 24 اپریل کو سعودی عرب کے شہر ریاض سے لندن کے راستے انڈیانا پہنچا تھا۔

میرس وائرس پہلی دفعہ ستمبر 2012 میں ظاہر ہوا تھا اور اب تک جن لوگوں میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے ان کا تعلق مشرق وسطیٰ کے چھ ملکوں سے ہے۔

سکوشٹ کا کہنا ہے کہ پہلی دفعہ ظاہر ہونے کے بعد اب تک تقریباً چارسو لوگوں میں اس وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے ان میں سے ایک تہائی اس وائرس کی وجہ سے موت کا شکار ہو چکے ہیں ۔

میرس کا تعلق کرونا وائرس کے گروپ سے ہے اور ان میں وہ جراثیم بھی ہیں جو زکام اور سوئیر ایکیوٹ ریسپائریٹری سنڈروم یا سارس جو شدید سانس کی بیماریوں کی وجہ بنتا ہے۔
XS
SM
MD
LG