رسائی کے لنکس

ٹیکسوں میں چھوٹ، اوباما اور ری پبلکنز میں اختلافات


اسپیکر بینر اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے

اسپیکر بینر اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے

صدر اوباما نے ایوانِ نمائندگان کے ری پبلکن اسپیکر جان بینر سے ٹیلی فون پرگفتگو کی اور ہنگامی اقدام کے طور پر ٹیکسوں میں دی گئی چھوٹ میں دو ماہ کی توسیع کی منظوری پہ زور دیا

امریکہ کے صدربراک اوباما نےایوانِ نمائندگان پر زور دیا ہےکہ وہ تنخواہ دارطبقے کو ٹیکسوں میں دی گئی چھوٹ میں توسیع کےاس قانون کی منظوری دے جسےسینیٹ نےگزشتہ ہفتےمنظور کرلیا تھا۔

بدھ کو وہائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر اوباما نے ایوانِ نمائندگان کے ری پبلکن اسپیکر جان بینر سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور ہنگامی اقدام کے طور پر ٹیکسوں میں دی گئی چھوٹ میں دو ماہ کی توسیع کی منظوری پہ زور دیا۔

بیان کے مطابق گفتگو میں صدر کا کہنا تھا کہ قانون میں دو ماہ کی توسیع کےبعد ڈیموکریٹس اور ری پبلکن قانون ساز وں کو قانون کی مدت میں مزید ایک سال کی توسیع کے منصوبے پہ مذاکرات کا وقت میسر آجائے گا جس کا مطالبہ ری پبلکنز کر رہے ہیں۔

قبل ازیں مجوزہ قانون پہ سینیٹ کے ساتھ مذاکرات کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی کے اراکین کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ہاؤس اسپیکر جان بینر نے ڈیموکریٹس کو منصوبے پر بات چیت دوبارہ شروع کرنے کی تجویز دی تھی۔

ری پبلکن رہنماؤں نے یہ تجویز ایک ایسے وقت میں پیش کی ہے جب سینیٹ اراکین کی سالانہ تعطیلات شروع ہوچکی ہیں۔

واضح رہے کہ ری پبلکن ایوانِ نمائندگان میں اکثریت رکھتے ہیں جب کہ سینیٹ کا کنٹرول صدر اوباما کی جماعت ڈیموکریٹس کے پاس ہے۔

دریں اثنا ایوانِ نمائندگان کے ڈیموکریٹ رکن اسٹینی ہوئر نے کہا ہے کہ رائے عامہ کے حالیہ جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام سینیٹ کے جانب سے گزشتہ ہفتے منظور کیے گئے قانون کے حامی ہیں۔

تنخواہوں پہ نافذ ٹیکس سے حاصل ہونے والی رقم 'نیشنل ریٹائرمنٹ سسٹم' سے مستفید ہونے والے افراد کے لیے مختص کی جاتی ہے اور اگر آئندہ 10 روز کے دوران کانگریس نے دی گئی چھوٹ میں توسیع نہ کی تو تنخواہ دار طبقے پہ عائد ٹیکسوں میں اضافہ ہوجائے گا۔

امریکی ایوانِ نمائندگان نے منگل کو مذکورہ قانون میں دو ماہ کی توسیع کے بل پہ رائے شماری معطل کرتے ہوئے ڈیموکریٹس سے کہا تھا کہ وہ قانون میں ایک سال کی توسیع کے لیے مذاکرات کا نیا دور شروع کریں۔

اجلاس کے بعد ایوان کے اسپیکرجان بینر نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ ایوان کے ری پبلکن اراکین نے اپنا فرض پورا کردیا ہے اور اب تاخیر کی ذمہ داری سینیٹ پہ عائد ہوگی۔

ایوانِ نمائندگان کی جانب سے سینیٹ کے منظور کردہ بِل کی منظوری نہ دیے جانے پر صدر اوباما نے سخت برہمی ظاہر کی تھی۔

منگل کو اپنے بیان میں امریکی صدر نے ایوان کے اسپیکر اور ری پبلکن اراکین سے کہا تھا کہ وہ سیاست اور اختلافی امور کو ایک طرف رکھ کے ان معاملات پہ پیش رفت کریں جن پر دونوں جماعتیں متفق ہوچکی ہیں۔

صدراوباما نے کہا تھا کہ امریکی عوام اس کھیل سے تنگ آچکی ہے اور اس سے کہیں بہتر سلوک کی مستحق ہے۔

ڈیمو کریٹ سینیٹرز پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ ان کا سال کے اختتام سے قبل کسی نئے معاہدے کے لیے مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں۔

وہائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اگر ایوانِ نمائندگان نے سال کے اختتام تک ٹیکسوں میں دی گئی چھوٹ میں توسیع نہ کی تو لگ بھگ 16 کروڑ امریکیوں کو اوسطاً سالانہ ایک ہزار ڈالرز فی کس اضافی ٹیکس دینا پڑے گا۔

وہائٹ ہاؤس کے مطابق قانون کی منظوری نہ دیے جانے کی صورت میں تقریباً 20 لاکھ بےروزگار امریکی بھی انہیں دستیاب انشورنس سے محروم ہوجائیں گے۔

XS
SM
MD
LG