رسائی کے لنکس

امریکی کمیٹی میں آرمینیا سےمتعلق قرار دا کی منظوری کے بعد ترکی نے اپنےسفیرکوواپس بُلالیا


ترکی

ترکی

وائٹ ہاؤس نے خبر دار کیا تھا کہ اس قرارداد کو منظور نہ کیا جائے

امریکی کانگریس کی ایک کمیٹی نے پابندیِ تعمیل سے آزاد ایک ایسی قرار داد کی منظوری دے دی ہے جس میں پہلی عالمی جنگ کے دوران، سلطنتِ عثمانیہ کے دور کے ترکوں کے ہاتھوں آرمینیا کے لوگوں کی ہلاکتوں کو نسل کُشی قرار دیا گیا ہے۔

ایوانِ نمائیدگان کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی نے جمعرات کے روز 22 کے مقابلے میں 23 ووٹوں سے اس قرار داد کو منظور کیا ہے۔اب یہ قرار دار پر پورے ایوان میں غور خوض کیا جائے گا۔

قرار داد پر ووٹنگ کے فوراً بعد ترکی نے قرار داد کی مذمّت کی اور امریکہ سے اپنے سفیر کو صلاح مشورے کے لیے واپس بُلالیا ۔

ترک حکومت کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ قرار داد میں ترکی پر ایک ایسے جُرم کا الزام عائد کیا گیا ہے ، جو اُس نے نہیں کیا۔ ترکی نے اس بارے میں بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اس اقدام سے امریکہ اور ترکی کے تعلقات کو اور ترکی اور آرمینیا کے تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے خبر دار کیا تھا کہ اس قرارداد کو منظور نہ کیا جائے۔ جمعرات کو اس سے پہلے وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان مائیک ہَیمر نے کہا تھا کہ وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے کمیٹی کے چئیرمین ہاورڈ برمن سے رابطہ قائم کرکے اُن سے کہا تھا کہ کانگریس کی جانب سے مزید کسی کارروائى سےترکی اور آرمینیا کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ صدر براک اوباما نے بدھ کے روز ترکی کے صدر عبداللہ گل سے بات کی تھی اور آرمینیا کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے تر کی کوششوں کو سراہا تھا۔مسٹر اوباما نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ملکوں نے دو طرفہ تعلقات قائم کرنے کے لیے پچھلے سال جن دستاویزات پر دستخط کیے تھے ، اُن کی توثیق کی جانی چاہئیے۔

XS
SM
MD
LG