رسائی کے لنکس

امریکی وسط مدتی انتخابات:سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ

  • لیزا فرڈیننڈو

امریکی وسط مدتی انتخابات:سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ

امریکی وسط مدتی انتخابات:سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ

امریکی کانگریس وسط مدتی انتخابات سے قبل ملتوی ہو گئی تا کہ قانون ساز اپنے اپنے علاقوں میں جا کر نومبر کے انتخابات کی مہم میں حصہ لے سکیں۔ ڈیموکریٹس نے قانون سازی کا جو کام کیا ہے، وہ اسے اپنی اعلیٰ کارکردگی میں شمار کررہے ہیں جب کہ حزبِ اختلاف کی ریپبلیکن پارٹی کے ارکان صدر براک اوباما کی پارٹی کے ارکان کو الزام دے رہے ہیں کہ وہ کام مکمل کیے بغیر واشنگٹن سے چلے گئے ہیں۔

امریکی کانگریس کے ڈیموکریٹک ارکان کہتے ہیں کہ صدر اوباما کے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے اب تک، انھوں نے جتنا کام کیا ہے، اس پر انہیں فخر ہے ۔ وہ اقتصادی بحالی کے بل، علاج معالجے کے نظام میں اصلاح کے قانون، مالیاتی اداروں پر کنٹرول کے ضابطوں، طالب علموں کی مدد کے قوانین اور سابقہ فوجیوں اور چھوٹے کاروباری اداروں کی مدد کے قوانین کا حوالہ دیتے ہیں۔

لیکن ریپبلیکنز فوراً ہی اہم امور کے بارے میں اُس بہت سے کام کی طرف توجہ دلاتے ہیں جو ادھورا رہ گیا ہے، جیسے بجٹ کی منظوری اور بش کے دورِ حکومت میں ٹیکسوں میں کمی کے جو قانون منظور کیے گئے تھے اور جن کی مدت اس سال کے آخر میں ختم ہونے والی ہے، ان کے بارے میں فیصلہ کرنا۔

ریاست ٹیکسس کے ریپبلیکن سینیٹر، John Cornyn نے اپنی پارٹی کے نقطۂ نظر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈیموکریٹس نے سرکاری اخراجات میں بے تحاشا اضافہ کر دیا اور اس طرح غیر ذمہ دارانہ مالیاتی ایجنڈے پر عمل کیا۔ انھوں نے کہا’’اور اس کے باوجود، صورتِ حال یہ ہے کہ بہت سا کام جو مکمل ہو جانا چاہیئے تھا، ادھورا چھوڑ دیا گیا ہے۔‘‘

لیکن سینٹ کے ڈیموکریٹس نے ریپبلیکنز پر الزام لگایا کہ انھوں نے دفاعی اخراجات کے بِل سمیت کئی اہم قوانین کی منظوری کو بلاک کر دیا ۔ نیو جرسی کے ڈیموکریٹک سینیٹر Robert Menendez کہتے ہیں کہ ان کی پارٹی کے پاس ساٹھ ووٹ نہیں تھے جو ریپبلیکنز کے تاخیری حربوں کا توڑ کرنے کے لیے ضروری ہیں اور ریپبلیکنز نے مجوزہ قوانین میں پیش رفت کو روکنے کے لیے ضابطے کی کارروائیوں کے ہتھکنڈے استعمال کیے ۔’’انھوں نے filibuster کا طریقہ جتنی بار استعمال کیا ہے اتنا تاریخ میں پہلے کبھی نہیں کیا گیا۔صرف گذشتہ سال ہی انھوں نے 101 بار filibuster استعمال کیا جو ایک ریکارڈ ہے ۔ اور پھر ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ یہ شور مچاتےہیں کہ کام نہیں ہوتا۔‘‘

سینٹ میں ڈیموکریٹس نے دفاعی اخراجات کے قانون میں ایک شق شامل کی تھی جس کے تحت "نہ پوچھو، نہ بتاؤ" کی پالیسی ختم ہو جاتی۔ اس پالیسی کے تحت ہم جنس پرست لوگ امریکی فوج میں ملازمت نہیں کر سکتے اگر وہ اپنا جنسی رجحان ظاہر کر دیں۔ ریپبلیکنز نے کہا کہ پہلے فوج کو اس مجوزہ تبدیلی کا جائزہ لینا چاہیئے۔

ایوانِ نمائندگان میں بھی ڈیموکریٹس اور ریپبلیکنز کے درمیان کانگریس کی کارکردگی کے بارے میں شدید اختلافات تھے ۔ لیکن امریکن انٹرپرائز انسٹیٹیوٹ کی کارلین بوو مین کہتی ہیں کہ امریکیوں کی تمام تر توجہ صرف ایک مسئلے پر ہے۔ ملک کی معیشت کی حالت خراب ہے اور رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیشتر امریکی کسی نہ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جو گذشتہ چھ مہینوں میں بے روزگار ہوا ہے ۔

ایوانِ نمائندگان میں چوٹی کے ریپبلیکن ، ریاست اوہایو کے جان بوئہنر نے ڈیموکریٹس پر الزام لگا یا کہ انھوں نے امریکی عوام کی ضرورتوں کو نظر انداز کر دیا ہے اور ایسے قوانین پاس کیے ہیں جن پر بہت زیادہ اخراجات ہوں گے۔’’ہمارے پاس پورے سال ایسی پالیسیوں کے لیے تو وقت تھا جن سے لوگوں کے روزگارجاتے رہے، لیکن ہمار ے پاس بجٹ کے لیے وقت نہیں تھا جس کے ذریعے اخراجات کو کم کرنے کا موقع ملتا۔‘‘

امریکی وسط مدتی انتخابات:سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ

امریکی وسط مدتی انتخابات:سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ

لیکن ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی اس خیال سے متفق نہیں ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ صحت کی دیکھ بھال کے نظام میں اصلاح کے بلِ سمیت، جو بھی بل منظور کیے گئے ان سے لوگوں کو روزگار ملا، روزگار کے مواقع ختم نہیں ہوئے ۔ انھوں نے کہا کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان، بڑے فخر سے اپنی کارکردگی کی بنیاد پر اور صدر اوباما کے کام کی بنیاد پر اپنی انتخابی مہم چلا سکتے ہیں۔’’یہ بڑا دلچسپ انتخاب ہے کیوں کہ ہمیں اس ایجنڈے پر فخر ہے جو صدر اوباما نے سامنے رکھا تھا۔ ہمیں ان کی قیادت پر بڑا فخر ہے۔ ہمارے ارکان اس انتخاب میں اپنی شرکت کے معاملے میں پُر اعتماد ہیں۔اور ہر ڈسٹرکٹ میں ان کا یہی نعرہ ہے کہ وہ ہمیں نئی سمت میں لے جا رہے ہیں۔‘‘

اپنا اجلاس ملتوی کرنے سے قبل، کانگریس نے اخراجات کا ایک عارضی بِل منظور کیا جس کے تحت وفاقی حکومت کے دو مہینے کے اخراجات کے لیے رقم دی گئی ہے ۔ انتخابات کے بعد جب قانون ساز واپس آئیں گے تو ان کے پاس بجٹ منظور کرنے اور ٹیکسوں میں کمی کے معاملے سمیت، بہت سا کام ہو گا۔

XS
SM
MD
LG