رسائی کے لنکس

ایوانِ نمائندگان کی ایران کے خلاف نئی تعزیرات کی تجویز


اخباری کانفرنس

اخباری کانفرنس

ایوانِ نمائندگان کے احاطے میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، سینیٹر کیلی ایوٹے نے کہا ہے کہ ’غیر قانونی بیلسٹک میزائل تجربات اور یرغمال بنانے کی حمایت جاری رکھنے پر، ہمیں ایرانی حکومت کے خلاف اُٹھ کھڑا ہونا چاہیئے‘۔ بقول اُن کے، ’ہم اُس کے خلاف سخت تعزیرات عائد کرنے والے ہیں‘

صدر براک اوباما کی جانب سے ایران کے ساتھ حاصل کی گئی سفارتی کامیابی کو سراہنے کے چند ہی روز بعد، ایران کی طرف سے حالیہ میزائل تجربات اور دیگر اقدام کی پاداش میں، ریپبلیکن قانون سازوں نے ایران کے خلاف سخت تعزیرات پر زور دیا ہے۔

ایوانِ نمائندگان کے احاطے میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، سینیٹر کیلی ایوٹے نے کہا ہے کہ ’غیر قانونی بیلسٹک میزائل تجربات اور یرغمال بنانے کی حمایت جاری رکھنے پر، ہمیں ایرانی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہیئے‘۔

بقول اُن کے، ’ہم اُس کے خلاف سخت تعزیرات عائد کرنے والے ہیں‘۔

ریپبلیکن پارٹی کے ساتھی سینیٹر، جان مک کین نے کہا ہے کہ ’یہ صدر اور یہ وزیر خارجہ (جان کیری) ایرانیوں کی وکیل بنے ہوئے ہیں، بغیر اِس بات کے کہ وہ کیا کر چکے ہیں کہ وہ کیا جرم کر چکے ہیں۔ وہ کچھ بھی نہیں کریں گے۔ اس لیے ہمیں کانگریس کی حیثیت سے کچھ کرنا پڑے گا‘۔

قانون سازوں نے سرزنش کے طور پر اِس اقدام کی وضاحت نہیں کی، لیکن ایران کے ساتھ رابطہ رکھنے پر اوباما انتظامیہ پر سخت تنقید کی۔

سینیٹر لِنڈسی گراہم کے بقول، ’ہمارے صدر اور وزیر خارجہ نے میونخ کے سمجھوتے کے بعد بدترین سمجھوتا طے کیا۔ (اُن کا اشارہ جنگ عظیم دوم کے بعد برطانیہ اور جرمنی کے درمیان تھوڑے عرصے تک قائم رہنے والے معاہدے کی جانب تھا)۔ ایرانیوں کے لیے یہ لازم قرار نہیں دیا گیا کہ وہ اپنا رویہ تبدیل کریں۔ بم بنانے کی اُن کی راہ کھلی ہوئی ہے، جسے لے جانے کے لیے میزائل تشکیل دیے جا رہے ہیں، اب اُن کے پاس اس کے لیے وافر رقوم بھی میسر ہیں‘۔

اتوار کو، اوباما نے گذشتہ برس ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے پر عمل درآمد کی تعریف کی۔

صدر نے کہا کہ، ’اس سمجھوتے کے تحت، جو ہم نے اور ہمارے ساجھے داروں نے گذشتہ سال ایران کے ساتھ طے کیا، ایران اب جوہری بم نہیں بنا سکے گا۔ ہم نے یہ تاریخی کامیابی سفارت کاری کے ذریعے حاصل کی ہے، جس کے لیے ہم مشرق وسطیٰ میں کوئی مزید جنگ نہیں لڑی‘۔

اس بات کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہ تعزیرات اٹھائے جانے کے بعد ایران کو اب اربوں ڈالر دستیاب ہوں گے، صدر نے توجہ دلائی کہ امریکہ اور ایران کے مابین نااتفاقی ہے اور ایرانی میزائل تجربات پر نئی تعزیرات کا اعلان کیا۔

بقول اوباما، ’انسانی حقوق کی خلاف ورزی، دہشت گردی کی حمایت اور اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کی بنا پر ہمیں ایران کے خلاف تعزیرات جاری رکھی ہوئی ہیں‘۔

اُن کے الفاظ میں، ’اور ہم اِن پابندیوں کو سختی سے عمل درآمد کرائیں گے۔ مثال کے طور پر، ایران کے حالیہ میزائل تجربات بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ اور اس کے نتیجے میں امریکہ اُن افراد اور اداروں کے خلاف پابندیاں عائد کر رہا ہے جو ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ اور اس کے بارے میں ہمیں چوکنہ رہنا ہوگا‘۔

ریپبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ارکان اِن نئی تعزیرات کو محض کلائی پر ایک تھپڑ رسید کرنا خیال کرتے ہیں؛ اور دلیل دیتے ہیں کہ ایرانی رویے میں تبدیلی کے لیے ضروری ہے کہ سخت قسم کے اقدام کیے جائیں۔ خاص طور پر، وہ ایران کی جانب سے گذشتہ ہفتے کچھ دیر تک امریکی ملاحوں کو حراست میں لینے کا حوالہ دیتے ہیں، اور وہ ’امریکی سیلرز‘ کی رہائی پر وزیر خارجہ کیری کی جانب سے شکریہ ادائی پر برہمی کا اظہار کرتے ہیں۔

کانگریس میں کسی بل کی منظوری کے لیے ضروری ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے چند سینیٹروں کی حمایت حاصل کی جائے۔ گذشتہ برس، کانگریس کی جانب سے جوہری سمجھوتے میں روک ڈالنے کی کوشش اس لیے مسترد ہوگئی تھی کہ ڈیموکریٹ ارکان نے ریپبلیکن کا ساتھ نہیں دیا، تاکہ قرارداد کی منظوری کے لیے درکار ووٹ حاصل ہوں۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے سارے قانون ساز اس سمجھوتے کے حامی نہیں تھے، اُن میں جو حمایت کرتے تھے، کچھ نے ایرانی رویے پر جس میں میزائل ٹیسٹ شامل ہے، اپنی آواز اٹھانی شروع کر دی ہے۔

سینیٹر ٹِم کین نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ’میں سمجھوتے کا ٹھوس حامی ہوں۔ لیکن، یہ سمجھوتا تبھی کارگر ہوگا جب اس پر سختی سے عمل درآمد ہو، اور نہ صرف سارے سمجھوتے پر عمل ہو بلکہ اُن دیگر امور پر بھی جو بین الاقوامی قانون کا ایک جُزو ہیں‘۔

بقول اُن کے، ’اگر ایران دھوکہ دہی کرکے جان چھڑاتا ہے، تو پھر اس رویے کا اس سمجھوتے پر ضرور اثر پڑے گا‘۔

XS
SM
MD
LG