رسائی کے لنکس

بوسٹن میں ہونے والے بم حملوں سے پتا چلتا ہے کہ امریکہ اور روس کے خفیہ اداروں کے درمیان تعاون کا فقدان ہے، جسے بدلنے کے ضرورت ہے: دانا روہراباچر

امریکی قانون سازوں کا ایک گروپ آئندہ ہفتے روس کا دورہ کرے گا۔ وفد کے سربراہ کا کہنا ہے کہ دورے کا مقصد باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے، خاص طور پر گذشتہ ماہ بوسٹن کے میراتھون دوڑ کے مقابلے کے دوران ہونے والے بم حملوں کے تناظر میں انسدادِ دہشت گردی کے موضوع پر بات چیت کی غرض سے۔

اِن بم حملوں کا الزام بوسٹن کے دو باسیوں پر ہے جن کے خاندان کا تعلق روس کے خلفشار زدہ چیچنیا اور داغستان کے علاقوں سے ہے۔

بم حملوں کے کچھ ہی روز بعد تمرلان زارنیف کی ہلاکت پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ہوئی۔ اُس کا چھوٹا بھائی، زوخار اِن دِنوں وفاقی اداروں کی حراست میں ہے۔ اُن پر الزام ہے کہ وہ اُن دو بم حملوں میں ملوث ہے جس میں تین افراد ہلاک اور 264زخمی ہوئے۔

کیلی فورنیا سے ریپبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے رُکن کانگریس، دانا روہراباچر، جو ایوانِ نمائندگان کی یورپ، یوروایشیا اور منڈلاتے خطرات سے متعلق امور خارجہ کی ذیلی کمیٹی کے سربراہ ہیں، روس جانے والے وفد کی سربراہی کریں گے، جس میں دونوں پارٹیوں کے ارکان شامل ہوں گے۔

اُنھوں نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ بوسٹن میں ہونے والے بم حملوں سے پتا چلتا ہے کہ امریکہ اور روس کے خفیہ اداروں کے درمیان تعاون کا فقدان ہے، جسے بدلنے کے ضرورت ہے۔

تمرلان زرنیف نےگذشتہ برس چھ ماہ داغستان میں گزارے۔ گذشتہ ماہ ہی، امریکی حکام نے بتایا تھا کہ روس کے سکیورٹی کے وفاقی ادارے یا ’ایف ایس بی‘ نے 2011ء میں زرنیف کے بارے میں ایف بی آئی اور سی آئی اے سے معلومات حاصل کرنا چاہی تھی۔ یہ تب کی بات ہے جب وہ ابھی داغستان نہیں گئے تھے، اور برعکس اس کے، امریکہ کی اِن دونوں ایجنسیوں نے ایف ایس بی سے زرنیف کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہی تھی۔

ایف بی آئی نے بتایا ہے کہ اُسے زرنیف کے بارے میں کوئی مخصوص یا اضافی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

مشی گن سے ریپبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن کانگریس، مائیک روجرز نے، جو ایوان نمائندگان کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سربراہ ہیں، گذشتہ ماہ بتایا تھا کہ روسی حکومت امریکہ کی کوئی مدد نہیں کر رہی آیا زرنیف داغستان میں کیا کرتا رہا۔
XS
SM
MD
LG