رسائی کے لنکس

شٹ ڈاؤن کا چوتھا روز، تعطل کے حل کے آثار ندارد


فرلو پر گئے ہوئے سرکاری ملازمین مظاہرہ کرتے ہوئے

فرلو پر گئے ہوئے سرکاری ملازمین مظاہرہ کرتے ہوئے

ایوان کے ڈیموکریٹک ارکان کا کہنا ہے کہ وہ ایک مروجہ پارلیمانی طریقہٴ کار پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ایک مجوزہ بِل پر ووٹنگ کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں، جِس کے ذریعے ’شٹ ڈاؤن‘ کا خاتمہ ممکن ہوگا

امریکی حکومت کی جزوی بندش کے معاملے پر جاری سیاسی تعطل کے خاتمے کے اب تک کوئی آثار نظر نہیں آتے۔

جمعے کو، ’شٹ ڈاؤن‘ کے چوتھے روز بھی، صدر براک اوباما اور کانگریس میں اُن کے ری پبلیکن مخالفین تعطل کا شکار دکھائی دیے، جِس کے نتیجے میں آٹھ لاکھ سے زائد حکومتی کارکنان اب بھی انضباطی چھٹی پر ہیں۔ یہ تعداد وفاقی ملازمین کی ایک تہائی کے برابر ہے، جب کہ خدمات بجا لانے سے متعلق حکومت کےکئی ایک شعبے بند پڑے ہیں۔

مسٹر اوباما، جن کا تعلق ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے، امریکی صدارت کا عہدہ سنبھالے ہوئے یہ اُن کا پانچواں سال ہے۔ ’فرلو‘ پر جانے والے کارکنوں پر’شٹ ڈاؤن‘ کے اثرات کو اجاگر کرنے کے لیے، اُنھوں نے آج مقامی سینڈوچ کی ایک دوکان کا دورہ کیا، جو حکومتی ملازمین کو کم نرخ پر سینڈوچ فراہم کر رہا ہے۔

نائب صدر جو بائیڈن اور اپنے لیے دوپہر کے کھانے کا آرڈر دیتے ہوئے، مسٹر اوباما نے ری پبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر، جان بینر پر زور دیا کہ بغیر شرائط عائد کیے، وہ حکومتی کاروبار کو دوبارہ کھولنے کے سلسلے میں پیش کردہ ایک بِل پر ووٹنگ کی اجازت دیں۔

اب تک، ری پبلیکنز ایسے بجٹ کی منظوری دینے پر رضامند نہیں ہیں، جب تک کہ مسٹر اوباما کے صحتِ عامہ کی نگہداشت کے فخریہ پیکیج، جسے امریکہ بھر میں ’اوباما کیئر‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، اُس میں ترمیم نہیں کی جاتی یا اُس سے متعلق تاخیر سے کام نہیں لیا جاتا۔

اِس سے قبل، بینر اور ایوانِ نمائندگان کے دیگر ارکان نے مطالبہ کیا کہ ڈیموکریٹس قانون میں تبدیلی پر مذاکرات کریں، جس قانون پر اب مکمل عمل درآمد ہورہا ہے۔

ایوان کے ڈیموکریٹک ارکان کا کہنا ہے کہ وہ ایک مروجہ پارلیمانی طریقہٴ کار پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ایک مجوزہ بِل پر ووٹنگ کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں، جِس کے ذریعے ’شٹ ڈاؤن‘ کا خاتمہ ممکن ہوگا۔

تاہم، اِس ضمن میں اُنھیں ری پبلیکن پارٹی کے چند ارکان کی حمایت درکار ہوگی۔

اِس طرح کی مجوزہ قانون سازی 14اکتوبر تک ہوجانی چاہیئے، جِس سے چند ہی روز بعد یہ امر لازم ہوگا کہ قومی قرضہ جات کی ادائگی کے لیے قرض کی حد کو 16.7 ٹرلین ڈالر تک توسیع کی اجازت دی جائے۔
XS
SM
MD
LG