رسائی کے لنکس

مسٹر اوباما نے ری پبلیکنز کی طرف سےاس قانون پر عمل درآمد کے سلسلے میں روڑے اٹکانے کے لیے اختیار کیے جانے والے تاخیری حربوں کو ’نامعقول‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ، ’اُنھیں یہ فکر لاحق ہے کہ یہ قانون ضرور کامیاب ہوگا، یہ نہیں کہ اس میں ناکامی ہوگی‘

امریکی صدر براک اوباما نےمنگل، یکم اکتوبر سے نافذ العمل قانون سازی کے حوالے سے کانگریس کے ری پبلیکن ارکان پر نکتہ چینی کی ہے، جو اُن کے فخریہ صحتِ عامہ کے قانون کی مخالفت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

جمعرات کو اپنے خطاب میں، مسٹر اوباما نے ری پبلیکنز کی طرف سےاس قانون پر عمل درآمد کے سلسلے میں روڑے اٹکا نے کے لیے اختیار کیے جانے والے تاخیری حربوں کو ’نامعقول‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ، ’اُنھیں یہ فکر لاحق ہے کہ یہ قانون ضرور کامیاب ہوگا، یہ نہیں کہ اس میں ناکامی ہوگی‘۔

اُنھوں نے ریپبلیکن مخالفین پر الزام لگایا کہ ’اَفرڈابیل کیئر ایکٹ‘ کو تعطل میں ڈال کر یا اُس کے لیےمختص رقوم کی منظوری روک کر، اور یکم اکتوبر سے حکومت کاجزوی طور پر کاروبار بند کرنے کی دھمکی دے کر، دراصل وہ حکومت کو ’بلیک میل‘ کر رہے ہیں۔

دریں اثنا، ایوان نمائندگان میں چوٹی کے ری پبلیکن، جان بینر نے کہا کہ یہ ناممکن ہے کہ ری پبلیکن کی اکثریت والا یہ ایوان اخراجات سے متعلق کسی عارضی قانون سازی کی منظوری دے گا، جس کے باعث منگل کے بعد حکومت کے لیے رقوم میسر آجائیں۔

ڈیموکریٹک پارٹی کی اکثریت والی سینیٹ اِس بِل پر رائے شماری کی تیاری کر رہی ہے۔

توقع ہے کہ اس ہفتے کے آخر میں ایوان نمائندگان کسی اقدام کی منظوری دے گا جس کے ذریعے محکمہٴ خزانہ سرکاری قرضہ جات کی ادائگی کے حوالے سے قرضے کی حد میں توسیع کی اجازت مل جائے گی، جب کہ ’اَفرڈایبل کیئر ایکٹ‘ میں ایک سال کی تاخیر عمل میں آجائے گی، جس کی بدولت ایسے لاکھوں امریکی جن کے پاس صحت کا بیمہ نہیں ہے، وہ صحتِ عامہ کے پیکیج سے استفادہ کر سکیں گے۔

رائے عامہ کے چند جائزوں سے پتا چلتا ہے کہ زیادہ تر امریکی اِس قانون کے بارے میں تذبذب کا شکار ہیں، جسے ’اوباما کیئر‘ کا نام بھی دیا جاتا ہے۔
XS
SM
MD
LG