رسائی کے لنکس

کانگریس کا ہیکنگ الزامات کی تحقیقات کرانے کا اعلان


ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر پال رائن سینیٹ کے اکثریتی رہنما مچ مکونیل سے گفتگو کر رہے ہیں (فائل فوٹو)

امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں نے گزشتہ ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات کے نتائج میں روس کی جانب سے مبینہ آن لائن ہیر پھیر کے الزامات کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔

امریکی سینیٹ میں ری پبلکن کے اکثریتی رہنما مچ مکونیل اور ایوانِ نمائندگان کے ری پبلکن اسپیکر پال رائن نے پیر کو اپنے الگ الگ بیانات میں اعلان کیا کہ وہ انتخابی عمل کی مبینہ ہیکنگ کے الزامات کی تحقیقات کی حمایت کرتے ہیں۔

ان دونوں رہنماؤں کے اس اعلان کے بعد امکان ہے کہ کانگریس میں اکثریت رکھنے والی ری پبلکن جماعت کے قائدین اور نومنتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوگا جو صدارتی انتخابی نتائج میں روس کے مبینہ ہیر پھیر کے الزامات اور اس بارے میں امریکہ کے انٹیلی جنس اداروں کےخدشات کو یکسر مسترد کرچکے ہیں۔

پیر کو کانگریس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر مچ مکونیل نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ امریکی سینیٹ کے متعلقہ کمیٹیاں ان الزامات کی تحقیقات کے لیے کافی ہیں اور اس مقصد کے لیے کوئی نئی خصوصی کمیٹی بنانے کی ضرورت نہیں۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کی انٹیلی جنس کمیٹیاں ان الزامات کی تحقیقات کریں گی جو مہینوں جاری رہ سکتی ہیں۔

پیر کو صحافیوں کے بار بار سوال کے باوجود سینیٹر مکونیل نے نومنتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی سی آئی اے پر تنقید سے متعلق کوئی ردِ عمل دینے سے انکار کیا۔

سی آئی اے اور دیگر امریکی تحقیقاتی اداروں نے بھی یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکہ کے صدارتی انتخابات کے نتائج میں ہیکرز کی جانب سے مبینہ طور پر کچھ گڑبڑ کی گئی تھی جس کا مقصد ڈیموکریٹ امیدوار ہیلری کلنٹن کے مقابلے پر ڈونالڈ ٹرمپ کو فائدہ پہنچانا تھا۔

امریکی ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر پال رائن نے بھی پیر کو ایک بیان میں ایوان کی جانب سے ان الزامات کی تحقیقات کا اعلان کرانے کا اعلان کیا ہے۔

بیان میں پال رائن نے کہا ہے کہ امریکہ کے انتخابی عمل میں کوئی غیر ملکی مداخلت کسی صورت برداشت نہیں کی جاسکتی اور ایسے کسی بھی الزام کی تحقیقات ضروری ہیں۔

اس سے قبل سینئر ری پبلکن رہنما اور امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سربراہ سینیٹر جان مکین نے پیر کو روسی انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے امریکہ کے انتخابی عمل کی ہیکنگ کے الزامات کو مبنی بر حقیقت قرار دیتے ہوئے کانگریس سے ان الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

ریاست جنوبی کیرولائنا اور ریاست فلوریڈا سے منتخب ری پبلکن سینیٹرز لنڈسے گراہم اور مارکو روبیو بھی ان الزامات پر تشویش کا اظہار کرچکے ہیں جب کہ کانگریس کے کئی ڈیموکریٹ ارکان انتخابات کے بعد سے ہی ان الزامات کو دہراتے آرہے ہیں۔

گزشتہ ہفتے امریکی صدر براک اوباما نے امریکہ کے انٹیلی جنس اداروں کو ان الزامات کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں تحقیقات کے نتائج سے 20 جنوری سے قبل آگاہ کیا جائے۔ بیس جنوری کو ڈونالڈ ٹرمپ امریکہ کے نئے صدر کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

ڈونالڈ ٹرمپ کے مشیر ان تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دے چکے ہیں اور ان کا موقف ہے کہ تحقیقات کے ان مطالبات اور اعلانات کا مقصد انتخابات میں ڈونالڈ ٹرمپ کی فتح کو متنازع بنانا ہے۔

XS
SM
MD
LG