رسائی کے لنکس

'امریکی ویزہ کے حصول میں حائل مشکلات' پر کانگریس میں سماعت


'امریکی ویزہ کے حصول میں حائل مشکلات' پر کانگریس میں سماعت

'امریکی ویزہ کے حصول میں حائل مشکلات' پر کانگریس میں سماعت

امریکہ آنے کے تمام خواہش مند – چاہے وہ کاروباری حضرات ہوں، طالبِ علم یا سیاح - اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ امریکہ کا ویزہ حاصل کرنا جوئے شیر بجا لانے کے مترادف ہے۔ امریکی ویزے کا حصول وقت طلب ہونے کے ساتھ ساتھ دقّت طلب بھی ہے۔ امریکہ آنے کے خواہش مندوں کو ویزے کے حصول کیلیے نہ صرف اپنے علاقے کے امریکی سفات خانے یا قونصل خانے کے کئی چکر کاٹنے پڑتے ہیں بلکہ ہفتوں، اور بعض اوقات مہینوں، انتظار کرنا پڑتا ہے۔

امریکی حکام کا موقف ہے کہ انہیں اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہے کہ امریکہ آنے کے خواہش مند افراد کیلیے ویزے اور دیگر سہولیات کا حصول سہل بنانا ہوگا اور ان کے بقول امریکی انتظامیہ کی جانب سے اس مقصد کیلیے اقدامات بھی اٹھائے جارہے ہیں۔

گزشتہ ہفتے امریکی سینیٹ کی 'کامرس سب کمیٹی برائے مسابقت، تجدید و فروغِ برآمدات' نے امریکہ آنے کے خواہش مند غیر ملکی باشندوں کیلیے ویزے کے حصول کی راہ میں حائل مشکلات کے موضوع پر ایک سماعت کا اہتمام کیا جس کے دوران متعلقہ امریکی اہلکاروں نے قانون دانوں کو ویزے کے حصول کے نظام کو آسان بنانے کیلیے کی جانے والی انتظامی کوششوں سے آگاہ کیا۔

کمیٹی کی چیئر وومین منی سوٹا سے ڈیموکریٹ سینیٹر ایمی کلوبوچر ہیں جن کے بقول کمزور معاشی شرحِ نمو اور بجٹ خسارے کے موجودہ دور میں سیاحت اور دیگر متعلقہ ذرائع سے ہونے والی آمدنی سے صرفِ نظر نہیں کیا جاسکتا۔

مس کلوبوچر کے بقول "امریکہ آنے والا ہر غیر ملکی شخص ہمارے ملک میں اوسطاً چار ہزار ڈالرز خرچ کرتا ہے اور یہ ایک خطیر رقم ہے۔ صرف 2009ء کے دوران امریکہ آنے والے غیر ملکی افراد نے امریکی شہریوں کو ان کی خدمات کے عوض 23 ارب ڈالرز کا مشاہرہ ادا کیا اور ان کی بدولت امریکی معیشت میں 9 لاکھ ملازمتوں کو سہارا ملا"۔

امریکی سینیٹر کا کہنا ہے کہ 2000ء سے 2009ء کے درمیانی عرصے میں عالمی سیاحت میں امریکہ کے حصہ میں ایک تہائی کمی آئی ہے جس کے باعث نہ صرف امریکی معیشت کو سینکڑوں ارب ڈالرز کے زرِ مبادلہ سے محروم ہونا پڑا ہے بلکہ سیاحت اور متعلقہ صنعتوں سے وابستہ لاکھوں لوگ بھی بیروزگار ہوئے ہیں۔

گزشتہ سال امریکی صدر براک اوباما نے "ٹریول پروموشن ایکٹ" نامی قانون پر دستخط کیے تھے جس کا مقصد پبلک-پرائویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے امریکہ میں سیاحت کو فروغ دینا تھا۔

تاہم سینیٹ سب کمیٹی کی گزشتہ ہفتے ہونے والی سماعت کے دوران سینیٹر کلوبوچر کا کہنا تھا کہ مذکورہ قانون صرف اسی وقت فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے جب غیر ملکی افراد کیلیے امریکی ویزے کے حصول کا طریقہ کار بہتر بنایا جائے۔

سینیٹر کلوبوچر کے بقول"ایک ایسی صورتِ حال میں جب امریکہ آنے کے خواہش مند لوگوں کو کئی کئی ماہ تک ویزے کا انتظار کرنا پڑے، مذکورہ قانون بے مقصد ہوکر رہ جاتا ہے۔ حال ہی میں کیے گئے ایک سروے میں حصہ لینے والے 73 فیصد افراد کا موقف تھا کہ اگر انہیں معلوم ہوتا کہ امریکی ویزے کے حصول کیلیے انہیں دو سے تین ماہ انتظار کرنا ہوگا تو وہ امریکہ آنے کا ارادہ ہی نہ کرتے۔ یہ حقیقت ہے کہ کئی ممالک کے باشندوں کیلیے امریکی ویزے کا حصول اتنا ہی مشکل ہے اور یہ یقیناً ایک افسوس ناک صورتِ حال ہے"۔

گزشتہ ہفتے ہونے والی اس سماعت کےد وران امریکی محکمہ خارجہ کے ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری برائے ویزا سروسز ، ڈیوڈ ڈوناہو، بھی کمیٹی کے روبرو پیش ہوئے ۔

اپنا بیانِ حلفی دیتے ہوئے ڈوناہو نے کمیٹی کے ارکان کو امریکی انتظامیہ کی جانب سے ویزا کی درخواستوں پر عمل درآمد تیز کرنے اور ویزوں کی فراہمی پہ مامور سفارتی عملے کی تعداد میں اضافے جیسے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ امریکہ کے 'ویزا ویور پروگرام' سے استفادہ کرنے والے ممالک کی تعداد اس وقت تین درجن ہے جبکہ مستقبل میں اس میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔ پروگرام کے شریک ممالک کے شہری امریکہ آنے کیلیے ویزے کی پابندی سے مستثنیٰ ہیں تاہم اس کا اطلاق مخصوص نوعیت کے سفری دوروں پر ہی ہوتا ہے۔

ڈوناہو کے بقول امریکی انتظامیہ کے ان اقدامات سے امریکہ آنے والے غیر ملکی باشندوں کی تیزی سے کم ہوتی تعداد میں بہتری آئی ہے اور غیر ملکی سیاح دوبارہ امریکہ کی جانب متوجہ ہورہے ہیں۔

ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری کا کہنا تھا کہ 2010ء میں 6 کروڑ غیرملکی باشندوں نے امریکہ کا سفر اختیار کیا۔ ان کے بقول مذکورہ تعداد 2006ء میں امریکہ آنے والے افراد کے مقابلے میں 17 فی صد زائد ہے۔

ان کے بقول تیزی سے ترقی پذیر ملکوں کے شہریوں کی جانب سے امریکی ویزہ کی طلب میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے اور اس وقت چینی باشندوں کو 2005ء کے مقابلے میں دگنے ویزے جاری کیے جارہے ہیں۔ امریکی ویزوں کی طلب میں 2005ء کے مقابلے میں بھارت میں 50 فی صد، روس میں 52 فی صد، میکسیکو میں 24 فی صد اور مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقی ممالک میں 50 فی صد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ برازیل میں امریکی ویزوں کا اجراء ماضی کے مقابلے میں تین گنا بڑھ چکا ہے۔

تاہم ڈوناہو سمجھتے ہیں کہ ویزوں کے اجراء کا عمل تیز کرنے کے ساتھ ساتھ امریکہ میں داخل ہونے والے ہر فرد کی مناسب سیکیورٹی اسکریننگ بھی یقینی بنانی ہوگی۔ ان کے بقول 2001ء کے نیویارک اور واشنگٹن پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد اس معاملے سے صرفِ نظر نہیں کیا جاسکتا۔

ان کے بقول کچھ حلقوں نے یہ تجویز بھی پیش کی ہے کہ امریکی سفارتی عملے کی جانب سے ویزہ کے خواہش مندوں سے بالمشافہ ملاقات کے بجائے ان کے انٹرویوز 'ویڈیو کانفرنسنگ' کے ذریعے لیے جائیں تاکہ ان افراد کو سفارت خانوں اور قونصل خانوں کے چکر کاٹنے کی جھنجھٹ سے آزادی مل سکے۔ تاہم ڈوناہو اس تجویز کو سلامتی کے نکتہ نظر سے بوگس قرار دیتے ہیں۔

ان کے بقول "سفارتی عملہ اور ویزہ کے خواہش مند افراد کے درمیان بالمشافہ انٹرویو کا بنیادی مقصد یہ جانچنا ہوتا ہے کہ آپ جس فرد کو اپنے ملک میں داخلے کی اجازت دے رہے ہیں آیا وہ اس اجازت کا استعمال درست طور پر کرے گا یا نہیں۔ اور 'ویڈیو کانفرنسنگ' کی تمام بہترین دستیاب تیکنیکوں کا استعمال کرکے بھی آپ اس کے ذریعے کیے گئے انٹرویوز میں ویزہ کے خواہش مند افراد کا درست تجزیہ نہیں کرسکتے۔ درحقیقت بالمشافہ انٹرویو ایک سہ جہتی عمل ہے جو ہمارے نزدیک انتہائی اہم ہے"۔

سماعت کے دوران کمیٹی کے اراکین کو بتایا گیا کہ امریکہ آنے والے غیر ملکی باشندوں کو ایئرپورٹس پر ہونے والی غیر ضروری تاخیر اور کوفت سے بچانے کیلیے سابق صدر بش کی انتظامیہ کی جانب سے "ماڈل پورٹس آف اینٹری" نامی پروگرام متعارف کرایا گیا تھا۔

مذکورہ پروگرام کے تحت امریکہ کے مصروف ترین ایئرپورٹس پر کسٹمز اور بارڈر سیکیورٹی کا اضافی عملہ تعینات کرنے کے ساتھ ساتھ مسافروں کی تلاشی کے کائونٹرز کی تجدید کرکے انہیں "مزید خیر مقدمی" بنایا گیا ہے۔ پروگرام کے تحت ایسے مسافر جنہیں آگے مزید کسی پرواز پہ روانہ ہونا ہو ان کیلیے ایئرپورٹس پر علیحدہ کائونٹرز بھی قائم کیے گئے ہیں تاکہ ان کی اسکریننگ وغیرہ کا عمل غیر ضروری تاخیر کا شکار نہ ہو۔

XS
SM
MD
LG