رسائی کے لنکس

الیکشن کے اِس اعلان کے بعد، نومبر میں ہونے والے انتخابات کا تقریباً مکمل فیصلہ ہو چکا ہے؛ جب کہ صدر براک اوباما کی میعاد میں دو برس باقی ہیں، ریپبلیکن پارٹی دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر چکی ہے

سینیٹ کے انتخاب کے دوسرے مرحلے میں، لوزیانہ سے ڈیموکریٹک پارٹی کی سینیٹر میری لاندریو چوتھی بار اپنی نشست کا دفاع کرنے میں ناکام رہی ہیں، اور اس طرح، یہ نشست ریپبلیکن پارٹی کی امیدوار نے جیت لی ہے۔

الیکشن کے اِس اعلان کے بعد، نومبر میں ہونے والے انتخابات کا تقریباً مکمل فیصلہ ہو چکا ہے؛ جب کہ صدر براک اوباما کی میعاد میں دو برس باقی ہیں، ریپبلیکن پارٹی دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر چکی ہے۔

اگلے ماہ، جب نئی امریکی کانگریس کا اجلاس منعقد ہوگا، ایوانِ نمائندگان میں کم از کم 246 نشستیں ریپبلیکنز کے پاس ہوں گی، جب کہ ڈیموکریٹس کے ہاتھوں میں 188 سیٹیں رہ جائیں گی؛ ساتھ ہی، ریپبلیکن پارٹی کو 100 نشستوں والے سینیٹ کے ایوان میں 54 نشستیں حاصل ہوں گی۔

جنگ عظیم دوئم کے بعد، پہلی بار کانگریس میں کسی جماعت کو اتنی واضح اکثریت حاصل ہے۔ صدر ہیری ٹرومن کی انتظامیہ میں یہ صورت حال تھی، جو مسٹر اوباما کی طرح ایک ڈیموکریٹ تھے۔

ایریزونا سے ایوان کی ایک نشست کا ابھی اعلان ہونا باقی ہے، جس کانٹے کے مقابلے کے سلسلے میں دوبارہ گنتی جاری ہے۔

ریپبلیکن پارٹی صدر اوباما کی مقبولیت میں کمی کے عنصر کو اپنے حق میں استعمال کرنے میں خاصی کامیاب رہی۔

لوزیانہ کے الیکشن میں، لاندریو کے مخالف، بِل کیسڈی نے اپنی مہم کے دوران، صدر کی حمایت میں رائے دہی کے اُن کے ریکارڈ پر دھیان مرتکز رکھا۔


لاندریو کی شکست کا یہ بھی مطلب ہوا کہ ملک کے انتہائی جنوب کی متعدد ریاستوں سے کانگریس میں ڈیموکریٹ پارٹی کا کوئی بھی سینیٹر ایوان میں موجود نہیں ہوگا۔

ڈیموکریٹس نے کیلی فورنیا، فلوریڈا ور نبراسکا میں نشستیں جیتیں، جو اس سے قبل ریپبلیکن پارٹی کے پاس تھیں۔

صدر اوباما، جو ملک کے پہلے افریقی نژاد امریکی صدر ہیں، اِس شکست کے بعد، اُن کی میعاد صدارت دو سال باقی ہے۔

XS
SM
MD
LG