رسائی کے لنکس

امریکی کانگریس کے وفد کی پاکستانی عہدیداروں سے ملاقاتیں


امریکی کانگریس کا وفد

امریکی کانگریس کا وفد

سیکرٹری خارجہ اور امریکی وفد کے درمیان ملاقات میں علاقائی صورت حال خاص طور پر افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے تناظر میں بھی بات چیت کی گئی۔

امریکی کانگریس کے چار رکنی وفد نے پاکستان میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری سے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، معیشت اور انسداد دہشت گردی کی کوششوں سمیت باہمی دلچسپی کے اُمور پر بات چیت کی۔

امریکی کانگریس کی دفاع سے متعلق ایک ذیلی کمیٹی کے چار رکنی وفد نے رونڈی پی فرلینگ ہیوسن کی قیادت میں پاکستان کا دورہ کیا۔

پاکستان کی وزارت خارجہ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ سیکرٹری خارجہ نے امریکی وفد کو توانائی اور معیشت سے متعلق حکومت کی ترجیحات سے آگاہ کیا۔

بیان کے مطابق اعزاز احمد چوہدری نے کہا کہ پاکستان علاقائی امن و استحکام کے لیے پڑوسی ممالک سے تعلقات کو بہتر بنانے کے عزم پر قائم ہے۔

پاکستانی سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ واشنگٹن اور اسلام آباد کے تعلقات درست سمت کی جانب بڑھ رہے ہیں اور اس کی ایک مثال گزشتہ ماہ دونوں ملکوں کے درمیان وزرا سطح کے اسٹریٹیجک مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت ہے۔

اُنھوں نے انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں امریکہ کی جانب سے فراہم کی جانے والی معاونت کو بھی سراہا۔

بیان کے مطابق امریکی اراکین کانگریس نے دونوں ملکوں کے تعلقات کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن دہشت گردی کے خلاف اسلام آباد کی کوششوں کا معترف ہے۔

سیکرٹری خارجہ اور امریکی وفد کے درمیان ملاقات میں علاقائی صورت حال خاص طور پر افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کے تناظر میں بھی بات چیت کی گئی۔

امریکی کانگریس کے وفد نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے بھی الگ ملاقات کی جس میں معیشت اور اقتصادی صورت حال سے متعلق اُمور پر بات چیت کی گئی۔

رواں ماہ ہی امریکہ نے اتحادی اعانتی فنڈ ’’کولیشن سپورٹ فنڈ‘‘ کی مد میں پاکستان کو 35 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی قسط ادا کی تھی۔

اتحادی اعانتی فنڈ کے تحت امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پر پاکستان کے اخراجات کی ادائیگی کرتا ہے۔

اسحاق ڈار نے امریکی وفد سے کہا کہ وہ اتحادی اعانتی فنڈ کی بقیہ اقساط کی ادائیگی کو جلد یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے باعث پاکستان کی معیشت دباؤ کا شکار ہے۔
XS
SM
MD
LG