رسائی کے لنکس

مسی سیپی: داعش میں شمولیت کی کوشش، جوڑا گرفتار


فائل

فائل

جرم سے متعلق پیش کردہ استدعا میں دونوں نے ایف بی آئی کے خفیہ ایجنٹوں کے ساتھ آن لائن گفتگو میں یہ بات مانی کہ دولت اسلامیہ کی مدد کی غرض سے وہ شام کے سفر پر روانہ ہونا چاہتے تھے

مسی سیپی کے ایک نوجوان جوڑے کو شام میں داعش میں شمولیت اختیار کرنے کی کوششیں کرنے کے الزام پر گرفتار کیا گیا ہے۔

بائیس برس کے محمد دخلالہ اور اُن کی20 برس کی منگیتر، جیلن ینگ کو ہفتے کے روز ایف بی آئی نے مسی سیپی کے شہر کولمبس کے گولڈن ٹرائنگل ہوائی اڈے سے گرفتار کیا، جہاں سے وہ استنبول کے راستے ایمسٹرڈم کی پرواز میں سوار ہونے والے تھے۔

جوڑے پر سازش رچانے اور داعش کو مادی حمایت فراہم کرنے کی کوشش کرنے کا الزام ہے۔ ایف بی آئی کے ایک ایجنٹ کی جانب سے دائر کردہ ایک حلف نامے کے مطابق، حراست میں لیے جانے کے بعد، دونوں نے اِن الزامات کا اقرار کیا۔

جرم سے متعلق پیش کردہ استدعا میں دونوں نے ایف بی آئی کے خفیہ ایجنٹوں کے ساتھ آن لائن گفتگو میں یہ بات مانی کہ دولت اسلامیہ کی مدد کی غرض سے وہ شام کے سفر پر روانہ ہونا چاہتے تھے۔
کئی ماہ کے دوران، جیلن ینگ نے مختلف سماجی میڈیا پلیٹ فارمز پر خفیہ ایجنٹوں کو بتایا کہ رقم کے بندوبست کا معاملہ ہی آڑے تھا، جس کے باعث وہ فوری طور پر سفر کرکے داعش میں شریک نہیں ہوسکے۔ اسی لیے دونوں نے کام کرکے اتنے پیسے جمع کیے کہ جہاز کے ٹکٹ خریدے جا سکیں۔

ایک مرحلے پر، جیلن ینگ نے ایجنٹوں کو بتایا کہ جس مسلمان خاندان کے ساتھ وہ وقت بسر کرتی ہیں، اور مجموعی طور پر اُن کی مقامی براداری، دولت اسلامیہ کی حمایت نہیں کرتے اور یہ کہ وہ اُن کے اِس رویے سے اتفاق نہیں کرتیں۔

جیلن ینگ کے بقول، اُن دونوں کے بیرون ملک سفر کی کُل کہانی یہ ہے کہ اُنھوں نے حال ہی میں شادی کی تھی اور وہ ہنی مون پر جانا چاہتے تھے۔
ایف بی آئی ایجنٹوں نے بھی سماجی میڈیا پر دخلالہ سے رابطہ کیا، جس میں اُنھوں نے داعش میں شمولیت اختیار کرنے کے ارادے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کمپیوٹر، تدریس اور ابلاغ عامہ کے شعبوں میں مہارت رکھتے ہیں، اور داعش کے پوچھتے کہ اُن کے لیے کیا کام کر سکتے ہیں۔

دونوں ’مسی سیپی اسٹیٹ یونیورسٹی‘ کے سابق طالب علم ہیں۔

جیلن ینگ نے کیمسٹری میں میجر کیا ہوا ہے اور وہ ایک پولیس اہل کار کی بیٹی ہیں۔ دخلالہ نے مئی میں گریجوئیشن کیا اور وہ نفسیات میں گریجوئیٹ اسکول قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔ اُن کے والد مقامی اسلامی مرکز میں ایک عالم ہیں۔

منگل کو ہونے والی عدالتی کارروائی کے دوران، ایک وفاقی ماجسٹریٹ نے اُنھیں بغیر ضمانت کے قید رکھنے کے احکامات دیے، حالانکہ اُنھوں نے پہلے کبھی کوئی غیر قانونی عمل نہیں کیا۔ ماجسٹریٹ اب بھی اُن پر اِس شبہ کا اظہار کرتی ہیں کہ وہ دہشت گردی کی حرکات میں ملوث ہو سکتے ہیں۔

سزا ہونے کی صورت میں، اُنھیں 20 برس کی قید اور 250000 ڈالر جرمانہ ہو سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG