رسائی کے لنکس

این ایس اے کا فون ریکارڈ جمع کرنا غیر قانونی ہے، امریکی عدالت


فائل

فائل

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ کانگریس خفیہ نگرانی کے کسی ایسے منصوبے کی منظوری دینے کی مجاز نہیں جس کے بارے میں خود کانگریس کے بیشتر ارکان اور عوام کو علم ہی نہ ہو۔

امریکہ کی ایک عدالت نے خفیہ ادارے 'نیشنل سکیورٹی ایجنسی' (این ایس اے) کی جانب سے امریکی شہریوں کی ٹیلی فون کالوں کی بڑے پیمانے پر ریکارڈنگ کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔

نیویارک کی 'اپیلٹ کورٹ' نے جمعرات کو سنائے جانے والے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ 'این ایس اے' نے اس ضمن میں کانگریس کی جانب سے دی جانے والی اجازت کا غلط استعمال کیا ہے۔

نیویارک کی 'سیکنڈ سرکٹ کورٹ آف اپیل' کے تین رکنی بینچ نے 97 صفحات پر مشتمل اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ کانگریس خفیہ نگرانی کے کسی ایسے منصوبے کی منظوری دینے کی مجاز نہیں جس کے بارے میں خود کانگریس کے بیشتر ارکان اور عوام کو علم ہی نہ ہو۔

مذکورہ مقدمہ امریکہ میں شہری آزادیوں کے تحفظ کے لیے سرگرم تنظیم 'امریکن سول لبرٹیز یونین' نے دائر کیا تھا جس میں 'این ایس اے' کی جانب سے امریکی شہریوں کی ٹیلی فون کالوں کا ریکارڈ رکھنے کے عمل کو چیلنج کیا گیا تھا۔

'میٹا ڈیٹا' کے نام سے معروف اس ریکارڈ میں خفیہ ایجنسی امریکی شہریوں کی کروڑوں ٹیلی فون کالوں، کال کرنے کے وقت اور نمبروں کی معلومات محفوظ کرتی ہے تاہم ٹیلی فون کال پہ ہونے والی بات چیت ریکارڈ نہیں کی جاتی۔

امریکی حکومت کا موقف ہے کہ ٹیلی فون کالوں کا یہ ڈیٹا مستقبل میں دہشت گردی کے کسی ممکنہ واقعے کی روک تھام یا کسی واردات میں ملوث افراد کے تعین کے لیے مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

'این ایس اے' کی جانب سے عام شہریوں کی ٹیلی فون کالوں کی ریکارڈنگ کا یہ عمل کئی سال سے جاری تھا لیکن اس کا انکشاف پہلی بار ایجنسی سے بغاوت کرنے والے اہلکار ایڈورڈ سنوڈن نے دو سال قبل کیا تھا۔

ایڈورڈ سنوڈن نے ایجنسی کی ہزاروں ایسی خفیہ دستاویزات ذرائع ابلاغ کو جاری کردی تھیں جن سے پتا چلا تھا کہ 'نیشنل سکیورٹی ایجنسی' غیر ملکی سربراہانِ مملکت و حکومت، اہم شخصیات اور عام شہریوں سمیت امریکی عوام کے ٹیلی فون کا ڈیٹا بھی اکٹھا کر رہی ہے۔

سنوڈن ان دنوں سیاسی پناہ پر روس میں مقیم ہیں جب کہ امریکہ میں ان کے خلاف بغاوت اور سرکاری راز افشا کرنے سے سمیت کئی سنگین الزامات کے تحت مقدمات درج کیے جاچکے ہیں۔

نیویارک کی عدالت کے تین ججوں پر مشتمل عدالتی بینچ نے اپنے فیصلے میں خفیہ ایجنسی کی جانب سے ٹیلی فون ڈیٹا جمع کرنے کے عمل کی آئینی حیثیت پر رائے دینے سے گریز کیا ہے۔

تاہم بینچ نے کہا ہے کہ ایجنسی کانگریس کی جانب سے مقرر کردہ جاسوسی کی سرگرمیوں کے دائرۂ کار سے بہت باہر جا کر اپنی کارروائیاں کر رہی ہے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکومت اپنے شہریوں کی جاسوسی کرنے کے لیے جن قوانین کو جواز بناتی رہی ہے ان کی کبھی بھی ایسی تشریح نہیں کی گئی جس کے تحت عوام کی اتنے بڑے پیمانے پر جاسوسی جائز قرار دی جاسکے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکی حکومت کےخیال میں قومی سلامتی کے مفادات کے تحت اس بڑے پیمانے پر عوام کا ڈیٹا کا جمع کرنا ضروری ہے تو اس کے لیے اسے کانگریس کی واضح منظوری حاصل کرنا ہوگی۔

اس عدالتی فیصلے نے ایک ذیلی عدالت کے ماضی میں دیے جانے والے اس فیصلے کو غیر موثر کردیا ہے جس میں 'نیشنل سکیورٹی ایجنسی' کی جانب سے جاسوسی کی ان سرگرمیوں کو قانونی قرار دیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG