رسائی کے لنکس

دہشت گردی: بوسنیا کے چھ تارکین وطن پر فرد جرم عائد


فائل

فائل

محکمہ انصاف کے مطابق، اِن میں سے پانچ ملزمان کو پکڑا جا چکا ہے، جب کہ چھٹا ملزم بیرون ملک ہے۔۔۔ داعش جیسی غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کو رسد، رقوم اور اہل کار فراہم کرنے والوں کو ایسا کرنے سے روکنا اولین ترجیح ہے‘

امریکی محکمہٴانصاف نے بوسنیا سے تعلق رکھنے والے چھ تارکین وطن پر بیرون ملک دہشت گردوں کو رقوم اور آلات بھیجنے کے الزام پر فرد جرم عائد کی ہے، جن میں داعش کے شدت پسند لڑاکا اور عراق کی القاعدہ شامل ہیں۔

جمعے کے روز عائد کی گئی فرد جرم میں، تمام مدعا علیہان پر دہشت گردوں کو مالی اعانت اور وسائل فراہم کرنے کی سازش کرنے کے علاوہ، اُن کی باضابطہ فراہمی کا الزام عائد کیا۔

دو ملزمان پر ایک بیرونی ملک میں ہلاک کرنے اور اپاہج بنانے کا الزام بھی لگایا گیا۔

اِن میں سے پانچ ملزمان کو پکڑا جا چکا ہے، جب کہ چھٹا ملزم بیرون ملک ہے۔

بوسنیا سے تعلق رکھنے والے یہ تمام ملزمان غیر قانونی طور پر امریکہ کی تین ریاستوں (نیو یارک، اِلی نوائے اور میزوری) میں رہتے رہے ہیں۔ اِن میں سے تین امریکی شہریت حاصل کر چکے ہیں، جب کہ باقی تین یا تو پناہ گزیں ہیں یا پھر قانونی رہائش کا درجہ حاصل کر چکے ہیں۔

معاون اٹارنی جنرل، جان پی کارلن کے بقول، ’آج پیش کیے جانے والے الزامات اور گرفتاریوں سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ ہم امریکہ میں موجود احتساب کے قابل افراد کی شناخت کرنے اور ناکام بنانے میں پُرعزم ہیں، جو دہشت گردوں کو مالی اعانت فراہم کر رہے ہیں یا شام اور عراق میں سرگرمیاں کرنے والے دہشت گروں کی مدد کر رہے ہیں‘۔

اُنھوں نے کہا کہ،’داعش جیسی غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کو رسد، رقوم اور اہل کار فراہم کرنے والوں کو ایسا کرنے سے روکنا ہماری اولین ترجیح ہے‘۔

محکمہٴانصاف نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کو مادی حمایت فراہم کرنے کی سازش کرنے یا ایسا کرنے کے ہر الزام پر 15 برس قید کی سزا ہے، جب کہ 250000 ڈالر تک جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔

کسی غیر ملک میں کسی کو ہلاک کرنے یا اپاہج بنانے کی سزا عمر قید ہے۔

XS
SM
MD
LG