رسائی کے لنکس

گیس کی قیمت میں روسی اضافے پر امریکی تنقید


فائل فوٹو

فائل فوٹو

قیمتوں میں یہ اضافہ 80 فیصد اضافے کے مترادف ہے اور اس کی وجہ سے یوکرین کی معیشت پر دباؤ بڑھے گا جو پہلے ہی دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔

وائٹ ہاؤس نے جمعرات کو روس کی طرف سے یوکرین کے لیے قدرتی گیس کی قیمتوں میں اضافے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ قیمت کا تعین مارکیٹ کو کرنا چاہیے۔

وائٹ ہاوس کے ترجمان جے کارنی کا یہ بیان روس کی قدرتی گیس فراہم کرنے والی کمپنی گیز پروم کے یوکرین کے لیے گیس کی قیمت دوگنی کرتے ہوئے 485 ڈالر فی ایک ہزار کیوبک میڑز تک بڑھانے کے اعلان کے بعد آیا جس کے بارے میں یوکرین نے کہا کہ اس اقدام کی وجہ سیاسی ہے۔

کارنی نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ "اس اقدام کا مقصد یوکرائن پر دباؤ ڈالنا ہے اور ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ "ہم اس پر یقین رکھتے ہیں کہ قیمتوں کا تعین مارکیٹ کو کرنا چاہیے"۔

قیمتوں میں یہ اضافہ 80 فیصد اضافے کے مترادف ہے اور اس کی وجہ سے یوکرین کی معیشت پر دباؤ بڑھے گا جو پہلے ہی دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔

ماسکو نے اکثر اپنے پڑوسیوں کے ساتھ معاملات کو طے کرنے کے لیے توانائی کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے اور یورپی صارفین کو خدشہ ہے کہ مشرق اور مغرب کے درمیان سرد جنگ کے خاتمے کے بعد کرائمیا کی وجہ سے تعلقات میں شدید تعطل کے باعث روس ایک بار پھر گیس کی فراہمی معطل کر سکتا ہے۔

صدر اوباما نے جمعرات کو روس اور یوکرین کے ایسے حکام پر پابندیاں عائد کرنے کے قانون کی منظوری دی جو یوکرین میں روسی اقدامات کے حامی ہیں۔ انھوں نے یوکرین کے لیے ایک ارب ڈالر کے قرضے کی منظوری دینے کے ساتھ ساتھ خطے میں بین الااقوامی نشریات کے لیے امداد میں اضافہ بھی کیا ہے۔
XS
SM
MD
LG