رسائی کے لنکس

جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں دونوں ملکوں کے دارالحکومتوں میں امریکہ اور کیوبا کے سفارت خانوں کے کھولنے سمیت سفارتی معاملات پر بات ہو گی۔

امریکہ اور کیوبا کے درمیان سرد جنگ کے دور سے 50 سال تک جاری رہنے والی مخالفت کو ختم کرنے کے لیے دو روزہ مذاکرات بدھ کو ہوانا میں شروع ہوئے۔

یہ مذاکرات صدر براک اوباما اور کیوبا کے صدر راؤل کاسترو کی طرف سے 17 دسمبر کے اس اعلان کے بعد ہوئے جس میں کہا گیا تھا کہ دونوں ملک باضابطہ سفارتی تعلقات قائم کرنے پر تیار ہیں۔

بدھ کو ہونے والے افتتاحی مذاکرات کا محور امیگریشن خاص طور پر واشنگٹن کی دیرینہ پالیسی جس کے تحت کیوبا کے شہری ایک بار امریکہ کی سر زمین پر قدم رکھنے کے بعد امریکہ میں قیام کر سکتے ہیں۔

جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں دونوں ملکوں کے دارالحکومتوں میں امریکہ اور کیوبا کے سفارت خانوں کے کھولنے سمیت سفارتی معاملات پر بات ہو گی۔

دونوں فریق متوقع طور پر طویل المدت اہداف سے متعلق بنیادی خطوط سمیت کیوبا کے خلاف امریکی اقتصادی پابندیاں جو پہلی بار 1961ء میں عائد کی گئی تھیں اور واشنگٹن کی طرف سے کیوبا کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والا ملک قرار دینے کے معاملات پر بات ہو گی۔

کیوبا کی وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اس حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی سے سرد جنگ کے زمانے سے حریف ممالک کے درمیان فوری طور تعلقات مکمل طور پر بحال نہیں ہوں گے۔

بظاہر اس بیان کا مقصد ان دو روزہ مذاکرات سے متعلق توقعات کو کم کرنا ہے۔

امریکی وفد کی قیادت مغربی خطے معاملات کی نائب سیکرٹری خارجہ رابرٹا جیکبسن کریں گی۔

جیکبسن گزشتہ تین دہائیوں میں کیوبا کا دورہ کرنے والی پہلی اعلیٰ امریکی سفارتی عہدیدار ہیں۔ کیوبا کے وفد کی قیادت کیوبا کے امریکی امور سے متعلق وزارت خارجہ کے شعبے کے سربراہ جوزفینا وڈال کریں گی۔

XS
SM
MD
LG