رسائی کے لنکس

نقل مکانی سے متعلق امریکہ، کیوبا مذاکرات


نقل مکانی سے متعلق امریکہ، کیوبا مذاکرات

نقل مکانی سے متعلق امریکہ، کیوبا مذاکرات

امریکہ اور کیوبا کے عہدے دار تارکینِ وطن کے معاملات پر جمعے سے ہوانا میں مذاکرات کے نئے دور کا آغاز کر رہے ہیں۔

اِس سے پیشتر اِسی ہفتے امریکی محکمہ ٴ خارجہ کا کہنا تھا کہ کیوبا اور امریکہ کے مابین ہونے والی بات چیت محفوظ، قانونی اور باضابطہ نقل مکانی کو فروغ دینے پر مرکوز رہے گی۔

مغربی نصف کرہ ارض کے امور کے لیے اعلیٰ عہدے دار، معاون وزیرِ خارجہ، کریگ کیلی، امریکی وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔

بات چیت کا انعقاد ایسے وقت ہو رہا ہے جب کیوبا ایک امریکی ٹھیکے دار پرالزام لگا رہا ہے کہ وہ جاسوسی کی مہم چلا رہا ہے۔

امریکہ نے یہ کہتے ہوئے اِس الزام کو یکسر مسترد کیا ہے کہ وہ ‘ڈولپمنٹ اليٹرنیٹوز’ نامی ایک نجی ادارے سے وابستہ ہے جو واشنگٹن ڈی سی سے باہر واقع ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ آدمی جسے دسمبر میں زیرِ حراست لیا گیا تھا، امریکی حکومت کی مالی امداد سے چلنے والے ایک منصوبے میں حصہ لے ریا تھا، جِس کا مقصد کیوبا میں سول سوسائٹی کو مضبوط کرنا ہے۔

اوباما انتظامیی نے بحیرہٴ کریبی کے اِس کمیونسٹ ملک کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کی غرض سے گذشتہ سال تارکینِ وطن کے بارے میں مذاکرات کا دوبارہ اجرا کیا تھا۔ سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے 2003ء میں نقل مکانی پر مکالمے کو منسوخ کر دیا تھا۔

امریکی محکمہٴ خارجہ نے براہِ راست ڈاک کے نظام کی بحالی پر بات چیت کے لیے امریکی محکمہٴ خارجہ نےگذشتہ ستمبر میں ایک اوراعلیٰ سفارت کار، بیزا ولیمز کو ہوانا بھیجا تھا۔ ڈاک کا نظام سنہ 1963 سے معطل پڑا ہوا ہے۔


اپنے دورہ حکومت کے پہلے ہی سال صدر براک اوباما نےکیوبائی نژاد امریکیوں کے کیوبا کے سفر اوراپنے رشتہ داروں کو پیسے کی ترسیل پر عائد پابندیوں میں کمی کردی تھی۔ تاہم، صدر نے کہا کہ جب تک کیوبا جمہوری اصلاحات کے لیے اقدامات نہیں کرتا، امریکہ کی طرف سے ہوانا پر طویل عرصے سے لاگو قدغنیں برقرار رہیں گی۔

XS
SM
MD
LG