رسائی کے لنکس

قیدخانوں کےحالات کوبہتر رکھنا کیوبا کی ذمہ داری ہے: امریکہ


کیوبا کے صدر رئول کاسترو

کیوبا کے صدر رئول کاسترو

حکومت مخالف رائے رکھنے والے اشخاص کی بھوک ہڑتال پرصدر رئول کا امریکہ اور یورپی یونین کی بلیک میل قرار دیے جانےکے بیان کو مسترد کرتے ہوئےامریکہ نے کہا ہے کہ قیدخانوں کے حالات کو بہتر کرنا کیوبا کی ذمہ داری ہے۔

محکمہٴ خارجہ کے ترجمان پی جے کراؤلی نے پیر کے روز کہا کہ امریکہ کو،کیوبا کی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ لوگوں کو بھر دینا، حفظانِ صحت کی عدم دستیابی اور مضرِ صحت پینے کےپانی کے معاملات پر تشویش ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ یہ کیوبا کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت ، بشمول زیرِ حراست افراد ، اپنے شہریوں کاخیال کرے۔

کیوبا میں سیاسی مخالفین کے ساتھ برتے جانے والے رویے پر امریکہ اور یورپی یونین نے بین الاقوامی سطح پر آواز اٹھائی ہے۔

کیوبا کے صحافی، کُلرمو فریناس حالیہ مطالبوں کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

فریناس کئی ہفتوں سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ وہ تب تک غذا کے استعمال سے انکار کرتے رہیں گے جب تک حکومت اُن 26سیاسی قیدیوں کو رہا نہیں کرتی، جِن کی صحت، اُن کے بقول، بہت ہی نازک ہے۔
صدر کاسترو نے اتوار کو ٹیلی وژن پر نشری تقریر میں عہد کیا کہ وہ منحرف افراد کی طرف سے بھوک ہڑتال کے دباؤ کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکیں گے۔

فرینا ، گِر پڑےتھے اور اِس وقت ہسپتال داخل ہیں، جِنھیں انجیکشن کے ذریعے خوراک دی جارہی ہے۔ اُنھوں نے فروری کے اواخر میں اُس وقت بھوک ہڑتال شروع کی تھی، جب قید خانے کی صورتِ حال کے معاملے پر جیل میں بند حکومت مخالف ، اورلینڈو زپاٹا تمایو کا 85روز تک بھوک ہڑتال پر رہنے کے بعد انتقال ہو گیا تھا۔

گذشتہ ماہ، سیاسی قیدیوں کی بیویوں اور ماؤں نے قیدیوں کی رہائی کے مطالبے پر ایک ہفتے تک ہوانا میں بے مثال احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔

کیوبا کے معاملات پر نظر رکھنے والے انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ اِس کیریبیائی ملک میں سیاسی بنیادوں پر قید افراد کی تعداد کم ازکم 200ہے۔ کیوبائی اہل کاروں کا کہنا ہے کہ اُن کے پاس کوئی سیاسی قیدی نہیں ، سوائے کرائے کے اُن لوگوں کے، جو، کیوبا کے دعوے کے بقول، کیوبا کے کمیونزم کو نقصان پہنچانے کے لیے امریکہ کا ساتھ دے رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG