رسائی کے لنکس

'نئی امریکی انتظامیہ سائبر سیکورٹی کے نظام کو بہتر بنائے'


فائل فوٹو

فائل فوٹو

کمیشن نے ٹرمپ انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ 2020 تک سائبر سیکیورٹی کے ایک لاکھ نئے کارکنوں کی تربیت کرے اور 2021 تک روائتی پاس ورڈز ختم کر کے شناخت کی چوری کا خاتمہ کرے۔

ایک امریکی صدارتی کمیشن نے جمعے کےروز آنے والی انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ نجی اور سرکاری دونوں شعبوں میں سائبر سیکیورٹی بڑھانے کے اقدام کرے

نیشنل سائبر سیکیورٹی میں اضافے سے متعلق کمیشن نے ، جس میں ٹکنالوجی اور کمپیوٹر سیکیورٹی کے بارہ غیر جماعتی ماہرین شامل ہیں، امریکی صدر براک اوباما کو بہت سی سفارشات کے ساتھ ایک رپورٹ پیش کی جن کے بارے میں کمیشن نے اس توقع کا اظہار کیا کہ ان پر اگلے د و سے پانچ برسوں میں عمل درآمد ہو جائے گا۔

ان سفارشات میں امریکی منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آنے والی انتظامیہ میں دو نئے عہدوں، سائبر سیکیورٹی کے صدر کے لئے ایک معاون اور سائبر سیکیورٹی کے لیے ایک سفیر کا عہدہ تخلیق کرنے کی سفارش شامل ہے، جو بین الاقوامی سیکیورٹی بڑھانے کےلیے دوسرے ملکوں کے عہدے داروں کے ساتھ کام کرے گا۔

کمیشن نے ٹرمپ انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ 2020 تک سائبر سیکیورٹی کے ایک لاکھ نئے کارکنوں کی تربیت کرے اور یہ کہ وہ 2021 تک روائتی پاس ورڈز ختم کر کے شناخت کی چوری کا خاتمہ کرنا چاہتا ہے۔

صدر أوباما نے ایک بیان میں ٹرمپ اور کانگریس دونوں پر زور دیا کہ وہ ان سفارشات کو آئندہ ایک راہنما کے طور پر استعمال کریں اگرچہ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا مسٹر ٹرمپ اس تجویز پر دھیان دیں گے۔

مسٹر ٹرمپ پہلے ہی اپنی انتظامیہ کے تحت آن لائن سیکیورٹی بڑھانے کےلیے کئی وعدے کر چکے ہیں جن میں فوجی، سویلین اور نجی ڈیجیٹل ماہرین پر مشتمل ایک سائبر جائزہ ٹیم شامل ہے جو سیکیورٹی کو بڑھانے کے لیے ہر وفاقی ادارے کے ساتھ کام کرے گی۔ ٹرمپ کے مطابق یہ ٹیم پہلے تو انتہائی حساس نظاموں کو بہتر بنائے گی اور پھر دوسرے معاملات پر ان کی اہمیت کے لحاظ سے کام کرے گی۔

XS
SM
MD
LG