رسائی کے لنکس

آخری مباحثے میں خارجہ پالیسی پر اختلافات کا اظہار


صدر اوباما اور مٹ رومنی آخری مباحثے میں آمنے سامنے

صدر اوباما اور مٹ رومنی آخری مباحثے میں آمنے سامنے

اوباما نے بن لادن کے خلاف کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے پیشگی اجازت مانگی جاتی تو امریکی فوجی اس دہشت گرد لیڈر کو ختم نہ کر پاتے۔

امریکہ میں 6 نومبر کےصدارتی انتخاب سے قبل صدر براک اوباما اوراُن کے حریف اُمیدوار مٹ رومنی کے درمیان پیرکی شب آخری مباحثہ ہوا، جس میں ایران کےجوہری پروگرام، شام میں خانہ جنگی، دفاعی اخراجات، چین، افغانستان اور پاکستان سمیت امریکی خارجہ پالیسی کے دیگر اُمور پر دونوں اُمیدواروں کے درمیان گرما گرم سیاسی تکرار ہوئی۔

جنوبی ریاست فلوریڈا میں ہونے والے 90 منٹ کے اس مباحثے میں ریپبلکن پارٹی کے اُمیدوار رومنی کوخارجہ اُمور سے نبرد آزما ہونے کی اُن کی قائدانہ صلاحیتوں کے بارے میں شکوک وشبہات کو غلط ثابت کرنا تھا، جبکہ صدر اوباما کے لیے موقع تھا کہ خارجہ پالیسی اورقومی سلامتی سے متعلق معاملات سے نمٹنے میں زیادہ مہارت رکھنے کی اپنی ساکھ کو مستحکم کریں۔

گورنر رومنی نے صدر اوباما کے پہلے دور اقتدار کے دوران بعض پریشان کن واقعات کی نشاندہی کی جن میں شام میں 30 ہزار ہلاکتیں، لیبیا میں امریکی سفارت کاروں پر مہلک حملہ، اور جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے ایران کی محض چار سال کی دوری شامل ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ امریکی صدر بڑھتی ہوئی مسلمان شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے ایک بھرپور پالیسی پیش کرنے میں ناکام رہے۔

’’میں اُنھیں بن لادن کو ختم کرنے اور القاعدہ کی قیادت کا تعاقب کرنے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں، لیکن یہ سب اس (دہشت گردی) عفریت سے بچنے کے لیے کافی نہیں۔ ہمیں عالم اسلام اور دنیا کے دیگر حصوں کی مدد کے لیے وہاں پرتشدد انتہا پسندی کے خلاف ایک مفصل اور دیرپا حکمت عملی وضع کرنا ہوگی۔‘‘

ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے صدر اوباما نے لیبیا کے شہر بن غازی میں امریکی سفارت کاروں پر حملے کے ذمہ داران کو تلاش کرنے کا عزم دہرایا۔


مباحثے میں صدر اوباما کا ایک انداز

مباحثے میں صدر اوباما کا ایک انداز

امریکی صدر نے کہا کہ اُنھوں نے عراق کی بجائے افغانستان پر توجہ مرکوز کر کے القاعدہ کو منتشر کیا اور 2014ء کے آخرتک سلامتی کی ذمہ داریاں افغانوں کو منتقل کر کے امریکی لڑاکا فوج کے انخلاء کا منصوبہ دیا جس پر عملدرآمد جاری ہے۔

اوباما نے بحث کے دوران گورنر رومنی کی خارجہ پالیسی کے بارے میں تجاویز کو بار بار ’غلط اور عاقبت نااندیشی‘‘ قرار دیتے ہوئے مثالیں دے کر کہا کہ خارجہ پالیسی کے اہم اُمور پر اُن کے ریپبلکن حریف کا موقف تبدیل ہوتا رہا ہے۔

’’آپ نے کہا تھا کہ ہمیں عراق پر چڑھائی کردینی چاہیے تھی قطع نظر اس حقیقت کے کہ وہاں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار نہیں تھے۔ آپ نے کہا تھا کہ ہمیں آج بھی عراق میں فوجیں رکھنی چاہیئں۔ آپ نےعندیہ دیا کہ ہمیں روس کے ساتھ جوہری معاہدے نہیں کرنے چاہیئں، باوجود اس حقیقت کے کہ سینیٹ کے 71 ارکان نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔

دونوں اُمیدوارں نے شام کے حالات پر بھی اختلافی نکتہ نظر پیش کیا مگر اس بات پر متفق تھے کہ امریکی فوج کو اس میں ملوث نہیں ہونا چاہیے۔

گورنر رومنی نے الزام لگایا کہ صدر اوباما اس بحران پرایک مضبوط قائدانہ کردار ادا کرنے میں ناکام رہے، مگر امریکی صدر نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ شام میں مخالفین کو بھاری ہتھیاروں سے لیس کرنا کوئی ’’آسان تجویز‘‘ نہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ مصر کے سابق صدر حُسنی مبارک سے سبکدوش ہونے کے اپنے مطالبے پر اُنھیں کوئی پچھتاوا نہیں کیونکہ امریکہ کو جمہوریت کا ساتھ دینا ہے اور مصری حکومت پر اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے پر قائم رہنے سمیت کئی دیگر ذمہ داریاں ہیں۔

صدر اوباما نے ایران اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل پر حملہ ہوا تو امریکہ اُس کےساتھ کھڑا ہوگا۔ دونوں اُمیدواروں نے اس عزم کو دہرایا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے باز رکھنا ہوگا۔

گورنر رومنی نے کہا کہ وہ تہران کے خلاف موجودہ امریکی تعزیرات کو مزید سخت کریں گے اور صدر اوباما پر الزام لگایا کہ اُنھوں نے ایرانی قیادت کو امریکہ کے موقف میں کمزوری کے اشارے دیے ہیں، جس کے باعث ’’ایران جوہری ہتھیاروں کے حصول سے محض چار سال دور رہ گیا ہے‘‘۔


ریپبلکن امیدوار مٹ رومنی

ریپبلکن امیدوار مٹ رومنی

’’ایک صدر کے لیے شروع دن سے مضبوط انداز میں واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ اُس کے لیے قابل قبول کیا ہے اور ناقابل قبول کیا ہے، اور ہمیں ایک ایرانی جوہری پروگرام قابل قبول نہیں، اُنھیں ہرگز جوہری صلاحیت کو ترقی نہیں دینی چاہیے۔‘‘

صدر اوباما نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ہاتھ سے وقت نکلا جارہا ہے اور کہا کہ گورنر رومنی کی تجاویز اُن اقدامات سے زیادہ مختلف نہیں جو امریکی انتظامیہ پہلے ہی کرچکی ہے۔

’’مجھے خوشی ہے کہ گورنر رومنی ہمارے اقدامات سے متفق ہیں۔ لیکن گورنر میں بے تکلفی سے یہ کہنا چاہوں گا کہ اس (انتخابی) مہم کے دوران ایسے لمحات آئے ہیں جب آپ نے بھی وہی کچھ کرنے کا عندیہ دیا جو ہم کرچکے ہیں، مگر فرق صرف اتنا ہے کہ آپ نے اس کا اظہار زیادہ اُونچی آواز میں کیا۔‘‘

صدر اوباما نے کہا کہ اُن کی انتظامیہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کی اطلاعات ’سچائی پر مبنی نہیں‘‘ اور امریکہ کےلیے ایک ایسا معاہدہ قابل قبول ہوگا جو ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے کا باعث ہو۔

اُنھوں نے کہا کہ امریکہ ایران کو’’دائمی طور پرایسے مذاکرات میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دے گا جن کا کوئی انجام نا ہو‘‘۔

امریکی صدر نے سرکاری منصوبوں پر اخراجات کم کر کے دفاع پر زیادہ توجہ دینے کی اپنے حریف امیدوار کی تجاویز کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ گورنر رومنی ایسے اخراجات کا مشورہ دے رہے ہیں جس کا خود امریکی فوجی رہنماؤں نے بھی مطالبہ نہیں کیا ہے۔

چین کے بارے میں موقف دہراتے ہوئے گورنر رومنی نے کہا کہ اگر وہ صدارتی انتخاب جیت گئے تو چین کو کرنسی کا جوڑ توڑ کرنے والا ملک قرار دیں گے۔

اس پر صدر اوباما نے اُن مقدمات کا حوالہ دیا جو تجارتی خلاف ورزیوں پر بیجنگ کے خلاف دائر کیے گئے اور جن میں امریکی انتظامیہ کی جیت ہوئی۔ اُنھوں نے کہا کہ امریکہ کرنسی سے متعلق اُمور کو حل کرنے کے لیے چین پر دباؤ ڈالتا رہے گا۔

صدر اوباما نے اُسامہ بن لادن کے خلاف یکطرفہ کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان سے اس خفیہ آپریشن کے لیے پیشگی اجازت مانگی جاتی تو امریکی فوجی اس دہشت گرد لیڈر کو ختم نہ کر پاتے۔

رومنی نے کہا کہ پاکستان کے اندر جا کر بن لادن کو ختم کرنا ایک ’’درست اقدام‘‘ تھا اور اس کی وجہ سے دوطرفہ تعلقات میں کشیدگی کا وہ اوباما انتظامیہ کو ذمہ دار نہیں ٹھہراتے۔

لیکن اُنھوں نے کہا کہ امریکہ ایک ایسے ملک کے ساتھ روابط ختم نہیں کر سکتا جس کے پاس 100 جوہری ہتھیار ہیں، بلکہ ضروری ہے کہ پاکستان میں لوگوں کے ساتھ مل کر کام کیا جائے تاکہ موجودہ حالات کے برعکس ایک ذمہ دارانہ راستے پر چلنے میں اُن کی مدد کی جا سکے۔

ریپبلکن اُمیدوار نے کہا کہ پاکستان امریکہ کا اتحادی ہے اور اُسے تنہا چھوڑنے کا وقت ابھی نہیں آیا۔

دونوں صدارتی اُمیدواروں نے پاکستانی سر زمین پر مشتبہ عسکریت پسندوں کے خلاف ڈرون حملوں کی حمایت کی۔

تیسرے اور آخری مباحثے سے قبل رائے عامہ کے اکثر جائزوں کے مطابق دونوں صدارتی اُمیدواروں کی عوامی مقبولیت برابر تھی۔

ریاست فلوریڈا کے بوکا ریٹن میں ہونے والی اس بحث کے بعد دونوں جانب سے جیت کے دعوے اور اس اُمید کا اظہار کیا جارہا ہے کہ دو ہفتوں بعد یعنی 6 نومبر کو ہونے والے انتخابی معرکے کے نتائج پر پیر کو ہونے والے مباحثے کے مثبت اثرات ہوں گے۔
XS
SM
MD
LG