رسائی کے لنکس

امریکہ کا بارودی سرنگوں کا ذخیرہ تلف کرنے کا اعلان


فائل

فائل

مجموعی طور پر، اب تک 161 ملک اس سمجھوتے پر دستخط کر چکے ہیں، جس پر 1999ء میں عمل درآمد شروع ہوا۔ لیکن چین، بھارت، پاکستان، روس اور امریکہ اُن میں شامل نہیں ہیں

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ قابلِ استعمال بارودی سرنگوں کے ذخیرے کو بتدریج ناکارہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اوباما انتظامیہ نے کہا ہے کہ امریکہ فوجی اہل کاروں کے خلاف استعمال ہونے والی بارودی سرنگوں کو نہیں بنائے گا، نا ہی حاصل کرے گا؛ اور بالآخر اُن کے استعمال پر پابندی سے متعلق بین الاقوامی سمجھوتے میں شمولیت اختیار کرے گا۔

جمعے کو کیا جانے والا یہ اعلان موزمبیق کے شہر مپوتو میں منعقد ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا، جس کا مقصد 15 سالہ معاہدے کا جائزہ لینا تھا، جو ’اٹووا کنوینشن‘ کے نام سے مشہور ہے۔

قومی سلامتی کی کونسل کی خاتون ترجمان، کیٹلین ہائیڈن نے بتایا ہے کہ امریکی وفد نے یہ بات واضح کی کہ اُن کا ملک حل کے حصول تک پہنچنے کی مستعدی سے کوششیں کر رہا ہے، جو اٹووا کنوینشن سےمطابقت رکھتے یوں، اور بالآخر، امریکہ کو اجازت ہوگی کہ وہ کنوینشن کی رسمی منظوری دے۔

لیکن، اسٹیو گوز کہتے ہیں کہ یہ اعلان کافی نہیں ہے۔ وہ ’ہیومن رائٹس واچ‘ میں اسلحے سے متعلق ڈائریکٹر اور بارودی سرنگوں پر پابندی کی امریکی مہم کے سربراہ ہیں۔

بقول اُن کے، امریکہ کے لیے یہ بات تسلیم کرنا کوئی معنی نہیں رکھتی کہ ہتھیاروں پر ممانعت لاگو کی جائے، کیونکہ وہ انسانوں کے لیے تکلیف دہ ثابت ہوتے ہیں، جب کہ اُسے اپنے پاس رکھا جائے اور آئندہ برسوں کے دوران اسے استعمال کیا جائے۔


اُنھوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ امریکہ بارودی سرنگوں پر پابندی کے سمجھوتے میں شمولیت اختیار کرے، تاکہ اِن ہتھیاروں کو نہ استعمال کرنے کے عزم کا اظہار ہو اور اس کے ذخیرے کو تلف کرنے کا کام شروع کیا جائے۔

امریکہ نے سنہ 1997کے بعد بارودی سرنگیں تیار کرنا بند کردی تھیں، جس سال بارودی سرنگوں پر پابندی کا سمجھوتا منظور ہوا۔ لیکن، ’ہیومن واچ رائٹس‘ کے مطابق، خیال کیا جاتا ہے کہ امریکی ذخیرے میں 90 لاکھ بارودی سرنگیں ہیں۔

مجموعی طور پر، اب تک 161 ملکوں نے اس سمجھوتے پر دستخط کیے ہیں، جس پر 1999ء میں عمل درآمد شروع ہوا۔ لیکن چین، بھارت، پاکستان، روس اور امریکہ اُن میں شامل نہیں ہیں۔

XS
SM
MD
LG