رسائی کے لنکس

نادہندگی عالمی مالی بحران کا موجب بن سکتی ہے: تجزیہ کار


فائل

فائل

’اگر واجب الادا قومی قرضوں کی بروقت ادائگی نہ ہوپائی تو بین الاقوامی مالی منڈیوں میں بہت بڑا بھونچال آسکتا ہے، کیونکہ امریکی بانڈز کے محفوظ ہونے پر سرمایہ کاروں کا اعتماد اُٹھ جائے گا‘

اگر کانگریس جمعرات تک قومی قرضہ جات کی حد 16.7 ٹرلین ڈالر تک بڑھانے کے ضمن میں کوئی اقدام نہیں کر پاتی، تو امریکہ کو درپیش غیریقینی صورتِ حال اور نادہندہ بننے کے خطرے سے نہیں بچایا جا سکتا۔

مالی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر واجب الادا قومی قرضوں کی بروقت ادائگی نہ ہوپائی تو بین الاقوامی مالی منڈیوں میں بہت بڑا بھونچال آسکتا ہے، کیونکہ امریکی بانڈز کے محفوظ ہونے پر سرمایہ کاروں کا اعتماد اُٹھ جائے گا۔

واشنگٹن میں قائم ’بائی پارٹیسن پالیسی سینٹر‘ سے وابستہ تجزیہ کار، اسٹیو بویل نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ قرضہ جات کی ادائگی کے معاملے پر امریکہ کی نادہندگی کے ممکنہ اثرات معمولی نوعیت کے نہیں ہوں گے۔

اُن کے بقول، میرے خیال میںٕ، یہ اثرات تاریخی اور غیر معمولی نوعیت کے ہوں گے۔ یہ کوئی تماشہ نہیں۔ یہ حکومتی شٹ ڈاؤن کی طرح کا معاملہ بھی نہیں ہوگا، جو ایک بالکل ہی الگ بات ہے۔ یوں کہیئے کہ درحقیقت یہ دھماکہ خیز مواد کو چھونے کے مترادف ہوگا۔

حکومتی اخراجات کے سلسلے میں کانگریس کے کچھ ناقدین، جن کا زیادہ تر تعلق ریپبلیکن پارٹی سے اور صدر براک اوباما کے مخالفین سے ہے، وہ کہتے ہیں کہ اولین کام یہ ہے کہ سب سے پہلے حکومت کو اپنی ترجیحات طے کرنی ہوں گی، کہ سب سے پہلے کون سی ادائگی کرنی ہے۔

تاہم، بیل نے کہا کہ حکومت نہیں چاہتی کہ یہ فیصلہ کرے کہ سب سے پہلے ادائگی کس کو کی جانی چاہیئے، مثلاً چین یا جاپان، جنھوں نے امریکہ کے سکیورٹی بانڈز میں وسیع سرمایہ کاری کی ہوئی ہے؛ یا پھر عمر رسیدہ امریکی جن کی پینشن یا صحت عامہ کی نگہداشت کے معاملات۔

وہ کہتے ہیں کہ ساتھ ہی ساتھ، حکومت کے پاس رقوم کی دستیابی ختم ہوجائے گی، اور امکان اسی بات کا ہے کہ ہر روز بلوں کی ادائگی میں تاخیر در تاخیر درپیش ہوگی، تاوقتیکہ اتنے پیسے فراہم ہوں کہ تمام واجب الادا ادائگیاں ہو سکیں۔ تاہم، وہ کہتے ہیں کہ یہ معاملہ اتنا آسان نہیں۔

امریکی وزیر مالیات، جیک لیو کہتے ہیں کہ جمعرات کو حکومت کے پاس صرف 30 ارب ڈالر کی رقم موجود ہوگی، اور مختلف ذرائع سے حکومت کے پاس آمدن کی مختصر رقوم دستیاب ہوں گی۔

اُن کا کہنا ہے کہ بعد ازاں، یکم نومبر کو حکومتی سکیورٹیز اور پینشن اور صحت عامہ کی نگہداشت کی مدوں پر اٹھنے والے اضافی سود کے معاملے سے سابقہ پڑے گا، جس کے باعث دستیاب رقوم ایک دم سے ناکافی پڑ جائیں گی۔
XS
SM
MD
LG