رسائی کے لنکس

امریکیوں کی نصف تعداد قرض کی حد بڑھانے کے حق میں


امریکیوں کی آدھی آبادی جمعرات تک ملک کے قرضہ لینے کے اختیار میں اضافے کو ’انتہائی ضروری‘ سمجھتی ہے، تاکہ امریکہ نادہند ہونے سے بچ جائے

ایک تازہ عوامی جائزے سے پتا چلتا ہے کہ امریکیوں کی آدھی آبادی جمعرات تک ملک کے قرضہ لینے کے اختیار میں اضافے کو ’انتہائی ضروری‘ سمجھتی ہے، تاکہ امریکہ نادہند ہونے سے بچ جائے، جب کہ ملک کی ایک تہائی سے زائد لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ڈیڈلائن خیریت سے گزر جائے گی اور ملک کو کوئی خاص معاشی مسائل درپیش نہیں آئیں گے۔

’پیو رسرچ سینٹر‘ نے کہا ہے کہ حالیہ دِنوں کے دوران، اُس نے 1500سے زائد امریکیوں کی رائے معلوم کی، جن میں سے 51 فی صد کا کہنا تھا کہ ملک کی16.7 ٹرلین ڈالر کی حد میں اضافہ کیا جانا چاہیئے، تاکہ ادائگیاں کرنے کے لیے امریکہ کے پاس وافر رقوم دستیاب ہوں۔

تاہم، ایک چھوٹی اقلیت، یعنی 36 فی صد لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ حتمی تاریخ تب ہی آئے گی جب قرض لینے کا اختیار ختم ہوگا۔

بدھ کو امریکی سینیٹ کے راہنماؤں نے ایک منصوبے سے اتفاق کیا ہے، جس کی رو سے امریکہ کا قرضہ لینے کا اختیار فروری کے آغاز تک کے لیے بڑھ جائے گا۔ تاہم، اِس پر اب بھی سینیٹ اور ایوانٕ ِنمائندگان کے ارکان کی منظوری لازم ہے، جس کے بعد کہیں اِسے صدر کی دستخط کے لیے پیش کیا جائے گا۔

’پیو‘ کے جائزے میں کہا گیا ہے کہ قرضے کی حد میں اضافہ لانے کی ضرورت کے معاملے پر پارٹی کی سوچ کی بنیاد پر ایک واضح تفریق موجود ہے، جس میں ایک تہائی ڈیموکریٹ کہتے ہیں کہ یہ ضروری ہے، لیکن محض 37 فی صد ری پبلیکن اِسے ضروری خیال کرتے ہیں۔

سروے کے نتائج کانگریس میں سیاسی تقسیم کی عکاسی کرتے ہیں۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے ٕمسٹر اوباما کے حامی شرائط کے بغیر قرضے کی حد میں توسیع کے حق میں ہیں، جب کہ اُن کے ری پبلیکن مخالفین اس بات کے خواہاں ہیں کہ سرکار اپنے اخراجات میں کمی لائے، اور قرضے کی حد میں اضافے کے معاملے کو اُن کے صحت عامہ کی نگہداشت کی اصلاحات سے نتھی کیا جائے۔
XS
SM
MD
LG