رسائی کے لنکس

ایش کارٹر کا بحیرہ جنوبی چین میں جنگی بحری جہاز کا دورہ


امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ’یو ایس ایس تھیوڈور روسویلٹ‘

امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ’یو ایس ایس تھیوڈور روسویلٹ‘

اس دورے سے چند روز قبل امریکہ کے ایک جنگی جہاز نے بحیرہ جنوبی چین کے متنازع جزائر کے قریب 22 کلومیٹر کے علاقے میں گشت کیا تھا۔

امریکہ کے وزیر دفاع ایش کارٹر نے بحیرہ جنوبی چین میں جمعرات کو ایک طیارہ بردار بحری جہاز کا دورہ کیا جو ایک ایسے وقت ہوا ہے جب علاقے میں چین کی طرف سے سمندری حدود کی توسیع کے معاملے پر دونوں ممالک میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

کارٹر اپنے ملائشیائی ہم منصب ہاشم الدین حسین کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔

دونوں رہنما ملائیشیا کے ساحل پر امریکہ کے طیارہ بردار بحری جہاز ’یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ‘ پر سوار ہوئے جو بحیرہ جنوبی چین کے لیے روانہ ہوا۔

بدھ کو اپنے دورے کا اعلان کرتے ہوئے کارٹر نے کہا تھا کہ یہ دورہ علاقے کے لیے ’’امریکہ کی حمایت کی علامت ہے‘‘ اور امریکہ کی طرف سے کئی سال تک مشرق وسطیٰ کی طرف توجہ مرکوز کرنے کے بعد اب ایشیا پیسفک کی اقوام کی طرف توجہ دینے کی علامت ہے۔

ایش کارٹر اور ہاشم الدین حسین طیارہ بردار جہاز کے جیٹ آپریشنز کا جائزہ لے رہے ہیں۔

اس دورے سے چند روز قبل امریکہ کے ایک جنگی جہاز نے بحیرہ جنوبی چین کے متنازع جزائر کے قریب 22 کلومیٹر کے علاقے میں گشت کیا تھا۔

بیجنگ نے گزشتہ سال سے سمندری چٹانوں کو مصنوعی جزائر میں تبدیل کرنے کے لیے ایک بہت بڑا تعمیراتی منصوبہ شروع کر رکھا ہے جن پر فضائی پٹیاں بھی ہوں گی۔ بحیرہ جنوبی چین کے مختلف علاقوں کے فلپائن، ویتنام، تائیوان اور دیگر ایشیائی ممالک بھی دعویدار ہیں۔

اوباما انتظامیہ نے کہا ہے کہ جنگی بحری جہازوں کی آمد و رفت معمول کی مشق ہے جس کا مقصد بحری سفر کی آزادی کا تحفظ ہے۔

اس علاقائی تنازع کے باعث بدھ کو کوالالمپور میں آسیان کے وزرائے دفاع کے اجلاس کے بعد کسی مشترکہ اعلامیہ پر دستخط نہیں کیے گئے کیونکہ چین نے اعلامیے میں بحیرہ جنوبی چین کے تنازع کا ذکر روکنے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کیا تھا۔

چین کی وزارت دفاع نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ کوئی مشترکہ اعلامیہ نہیں جاری کیا جا سکا اور جنوبی مشرقی ایشیا کے باہر سے آئے ’’کچھ ممالک‘‘ پر اعلامیے کی منسوخی کا الزام عائد کیا۔ یاد رہے کہ اس اجلاس میں آسیان کے وزرائے دفاع کے علاوہ امریکہ، بھارت، چین، آسٹریلیا اور جاپان کے وزرائے دفاع نے بھی شرکت کی تھی۔

امریکہ نے چین سے کہا ہے کہ وہ بحیرہ جنوبی چین میں تعمیرات کے کام کو بند کرے اور اس کے بقول یہ علاقے میں عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔ چینی حکام نے تعمیرات کے کام کا دفاع یہ کہہ کر کیا ہے کہ یہ پر امن مقاصد کے لیے ہے اور اس کا مقصد اس متنازع آبی گزرگاہ میں بحری سفر میں سہولت پیدا کرنا ہے۔

XS
SM
MD
LG