رسائی کے لنکس

امریکی وزیر دفاع جنوبی کوریا پہنچ گئے


امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر (فائل فوٹو)

امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر (فائل فوٹو)

امریکی وزیر دفاع کارٹر کی جنوبی کوریا کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ہونے والی بات چیت کا محور شمالی کوریا کے طرف سے درپیش خطرہ ہو گا۔

امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر جمعرات کو سرکاری دورے پر جنوبی کوریا پہنچے۔

انہوں نے کہا کہ پیانگ یانگ کی طرف سے حال ہی میں کیے گئے میزائل تجربات اس بات کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ جزیرہ نما کوریا میں صورت حال کتنی خطرناک ہے۔

جاپان میں یوکوٹا کے فضائی اڈے پر جنوبی کوریا روانگی سے قبل کارٹر نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ انہیں اس بات سے "خوشی" ہوئی ہے اگر شمالی کوریا کی طرف سے چلائے گئے میزائل ان کے لیے "خوش آمدید کا پیغام" تھے۔

شمالی کوریا نے اس ہفتے مغربی ساحل سے سمندر میں میزائل فائر کیے تھے۔ گزشتہ جمعہ کو بھی شمالی کوریا نے تجرباتی طور پر چار میزائل فائر کیے تھے۔

شمالی کوریا کی طرف سے اس خطے میں امریکی عہدیداروں کی آمد سے قبل اور حریف ملک جنوبی کوریا کے ساتھ زیادہ کشیدگی کے وقت میزائل تجربات کرنا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔

سیول کی وزارت دفاع نے جمعرات کو اس ہفتے ہونے والے تجربات کو معمول کی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ میزائل جنوبی کوریا کی سکیورٹی کے لیے کوئی سنگین خطرہ نہیں۔

جنوبی کوریا کے عہدیداروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ میزائل کے یہ تجربات بظاہر امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان جاری فاؤل ایگل نامی فوجی مشقوں کا ردعمل ہیں۔

ہر سال ہونے والی یہ مشقیں دونوں کوریائی ممالک کے درمیان کشیدگی کا باعث ہیں جو 1950ء کی دہائی میں جنگ بندی معاہدے کے تحت ختم ہونے والی باہمی لڑائی کے بعد تکنیکی طور پر اب تک حالت جنگ میں ہیں۔ پیانگ یانگ کا کہنا ہے کہ یہ جنگی مشقیں اس پر حملے کرنے کی ایک مشق ہیں جبکہ واشنگٹن اور سیول کا مؤقف ہے کہ یہ دفاعی نوعیت کی ہیں۔

امریکی وزیر دفاع کارٹر کی جنوبی کوریا کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ہونے والی بات چیت کا محور شمالی کوریا کے طرف سے درپیش خطرہ ہو گا۔

XS
SM
MD
LG