رسائی کے لنکس

امریکی دفاعی اخراجات میں کمی کے مجوزہ منصوبے پرپاکستان اورامریکہ سے ماہرین کی آراء


امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس پینٹاگون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے۔

امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس پینٹاگون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے۔

رابرٹ ۔گیٹس نے کٹوتیوں کے ایک سلسلے کا اعلان کیا جس میں باقی اقدامات کے علاوہ محکمہٴ دفاع کے اعلیٰ فوجی عہدے داروں، سویلینز اور ٹھیکیداروں کے تعداد میں خاصی کمی لانا شامل ہے۔ اگرچہ وزیردفاع رابرٹ گیٹس نے واضح الفاظ میں کہا کہ ان کٹوتیوں کا کوئی بھی اثرافغانستان اور عراق میں امریکہ کے مشن پر نہیں پڑے گا ، بعض مبصرین کے خیال میں اس فیصلے کے بعد دھیان فورا کابل اور بغداد کی طرف ہی جاتا ہے۔

امریکی وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس نے پیر کے روز ایک اہم امریکی لڑاکا کمان کو بند کرنے کا اعلان کیا جس کا مقصد درپیش معاشی مشکلات کی وجہ سے اخراجات میں کمی اور محکمے کی ملکی دفاعی صلاحیت کو مد ِنظر رکھتے ہوئے ضروری اقدامات کرنا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اگلے سال کے اندر اندر اس جوائنٹ فورسز کمانڈ کو، جو محکمے کی 10اہم لڑاکا کمان میں سے ایک ہے، بند کر دیاجائے گا۔ورجینیا میں موجود اِس کمان میں 2800 ارکان کام کرتے ہیں جس کا سالانہ بجٹ 34کروڑ ہے رابرٹ ۔گیٹس نے کٹوتیوں کے ایک سلسلے کا اعلان کیا جس میں باقی اقدامات کے علاوہ محکمہٴ دفاع کے اعلیٰ فوجی عہدے داروں، سویلینز اور ٹھیکیداروں کے تعداد میں خاصی کمی لانا شامل ہے۔ اگرچہ وزیردفاع رابرٹ گیٹس نے واضح الفاظ میں کہا کہ ان کٹوتیوں کا کوئی بھی اثرافغانستان اور عراق میں امریکہ کے مشن پر نہیں پڑے گا ، بعض مبصرین کے خیال میں اس فیصلے کے بعد دھیان فورا کابل اور بغداد کی طرف ہی جاتا ہے۔

واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ سے وابستہ اسکالر ان ریذیڈینس مارون وائن بام نے وائس آف امریکہ کے پروگرام راؤنڈ ٹیبل میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی کانگریس تمام محکموں سے اخراجات میں کمی کا تقاضا کرتی آرہی ہے اور وزیردفاع نے بھی کٹوتی کی تجویز دے کر یہ پیغام دیا ہے کہ پینٹگان بھی ملکی معاشی دباؤ کو سمجھتا ہے اور جہاں ممکن ہو سکتا ہے اخراجات میں کمی کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رابرٹ گیٹس امریکہ کی دونوں سیاسی جماعتوںمیں یکساں مقبول ہیں لہذا کانگریس میں ان کی تجاویز پر زیادہ لے دے کے امکانا ت کم ہیں۔ ہاں اگر مخالفت ہو گی تو اس سبب کہ اس کمی کے باعث ہزاروں افراد اپنی نوکریوں سے محروم ہو رہے ہیں اور روزگار کھونے کا یہ موقع اچھا نہیں جب حکومت روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دے رہی ہو۔اس طرح اس تجویز کے داخلی اثرات ہو سکتے ہیں خارجی بالکل نہیں۔

ادارےاسٹریٹفور سے وابستہ دفاعی تجزیہ کار کامران بخاری کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا اگرچہ کوئی براہ راست تعلق افغانستان مشن سے نہیں ہے لیکن امریکہ کے خلاف برسرپیکار طالبان اس پیش رفت کو اپنی نفسیاتی فتح کے طور پر بیان کر سکتےہیں۔

یونائیٹڈ اسٹیٹس انسٹیٹیوٹ آف پیس میں ساؤتھ ایشاء پروگرام کے ایڈوائزرمعید یوسف کا کہنا تھا کہ ایک کمان کی بندش امریکہ کے اسٹریٹجک مشن پر اثر انداز نہیں ہو سکتی اور یہ فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر لیا گیا ہوگا اور اگرذرہ برابر بھی اس کے منفی اثرات ہوتے تو سیکریٹری گیٹس ایسی تجویز نہ دیتے۔

جیف اسمتھ امریکن فارن پالیسی انسٹیٹوٹ میں سینیر ریسرچ فیلو ہیں۔ وہ اس تجویز پر ایک یورپی مبصر کی اس رائے پر کہ یہ فیصلہ اوباما انتظامیہ کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے، کہتے ہیں کہ بعض اوقات پروفیشنلز کو ان کے عہدوں سے ہٹانا، ان کی مہارت سے محروم ہونے کے اثرات برے نکلتے ہیں خاص طور پر جب آپ حالت جنگ میں ہوں۔ لہذا اوباما انتظامیہ بھی اس پہلو کو یقینا سمجھتی ہو گی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس تجویز کا مقصدمجموعی دفاعی اخراجات میں کمی قطعا نہیں ہے، وزیردفاع توایک فیصد کی معتدل شرح سے دفاعی بجٹ میں سالانہ اضافے کے حامی ہیں۔

پاکستان سے دفاعی تجزیہ کار اور مصنفہ ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کا کہنا تھا کہ امریکی قیادت کی جانب سے دفاعی اخراجات کے افغانستان یا عراق میں کیا اثرات ہوں گے اس سے زیادہ اہمیت اس بات کو دینے کی ہے کہ جب امریکہ جیسا ملک ایسے اقدامات کر رہا ہے ، پاکستان اور ایشائی خطے کے دیگر ممالک کیوں ایسا نہیں کر سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ میں عوامی سطح پر جنگ کی مخالفت اس سطح پر نہیں ہے جو ویتنام کی جنگ کے زمانے میں دیکھنے میں آئی تھی ۔ اس پر کامران بخاری نے کہا کہ پاکستان میں عمومی حالات میں تو دفاعی بجٹ میں کمی کی بات ہو سکتی ہے مگر آج کے حالات میں قطعا نہیں ۔ کیونکہ فوج ایک طرف عسکریت پسندوں کے خلاف لڑ رہی ہے اور دوسری طرف سیلاب جیسی ملکی تاریخ کی سب سے بڑی آفت میں امدادی کاموں میں مصروف ہے۔

XS
SM
MD
LG