رسائی کے لنکس

امریکی وزیر دفاع نے اعتراف کیا کہ افغان سکیورٹی فورسز کو طالبان کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جس میں ان کا قابل ذکر نقصان بھی ہوا۔

امریکہ کے وزیر دفاع ایش کارٹر نے کہا ہے کہ ان کی فوج کے پاس یہ معلومات ہیں کہ شدت پسند گروپ داعش افغانستان کے صوبے ننگرہار میں اپنے قدم جمانے کا موقع تلاش کر رہا ہے۔

جمعہ کو افغانستان کے غیر اعلانیہ دورے کے موقع پر مشرقی صوبے ننگرہار کے مرکزی شہر جلال آباد میں صحافیوں سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ امریکہ دنیا کے مختلف حصوں بشمول افغانستان میں داعش پر نظر رکھے ہوئے ہے اور ہم اس خطرے کا بہت قریب سے جائزہ لے رہے ہیں۔

ان کے بقول امریکہ اس گروپ کو نہ صرف افغانستان بلکہ دنیا بھر میں شکست دینے کے لیے پرعزم ہے اور اسے شکست دے گا۔

حالیہ مہینوں میں افغانستان میں داعش کی طرف سے کارروائیوں کے علاوہ یہاں اپنے گروپ میں لوگوں کو بھرتی کرنے کی خبریں اور طالبان کے ساتھ ان کی جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔

عراق و شام کے ایک وسیع حصے پر قبضہ کرنے کے بعد یہ شدت پسند گروپ اپنا دائرہ اثر دیگر ملکوں تک لے جانے کا اعلان بھی کر چکا اور امریکہ نے اسے عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف عراق اور شام میں اپنے اتحادیوں کے ہمراہ فضائی کارروائیاں بھی شروع کر رکھی ہیں۔

دفاعی امور کے تجزیہ کار محمود شاہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ افغانستان کی موجودہ سلامتی کی صورتحال کے تناظر میں یہاں داعش کی موجودگی بلاشبہ ایک بڑا خطرہ ہے۔

"ابھی تو داعش عراق اور شام تک محدود ہے لیکن اگر وہ یہاں (افغانستان) میں پھیل جائے تو امریکہ کے لیے پھر اس گروپ کو کنٹرول کرنا بڑا مشکل ہو جائے گا تو اس لیے اس پر خاص طور پر امریکہ کی نظر ہے اور ان کی کوشش ہے کہ داعش کو یہاں پنپنے نہ دیا جائے۔

حالیہ مہینوں میں طالبان نے بھی افغانستان میں تشدد پر مبنی اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کیا جب کہ قندھار کے ہوائی اڈے پر بڑے حملے سے قبل عسکریت پسند چند دن کے لیے قندوز اور چند ایک دیگر علاقوں پر بھی قابض ہوئے تھے۔

امریکی وزیر دفاع نے اعتراف کیا کہ افغان سکیورٹی فورسز کو طالبان کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جس میں ان کا قابل ذکر نقصان بھی ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کے بعض حصوں میں طالبان کی پیش قدمی گو کہ عارضی ہی سہی، اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یہ لڑائی ابھی ختم ہونے سے بہت دور ہے۔

انھوں نے یہ پیش گوئی بھی کی کہ آئندہ آنے والے دن بھی اس لحاظ سے کافی سخت ہو سکتے ہیں لیکن ان کے بقول امریکہ افغان سکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ انھیں طالبان کے خلاف آئندہ دنوں میں خود اپنی فضائی قوت استعمال کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔

افغانستان میں امن و امان کی اس بگڑتی ہوئی صورت حال کے تناظر میں امریکہ کے صدر براک اوباما نے رواں سال اکتوبر میں افغانستان میں امریکی افواج کے انخلاء کے عمل کو سست کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت اس وقت افغانستان میں تعینات 9,800 امریکی فوجی 2016ء کے اختتام تک موجود رہیں گے۔

XS
SM
MD
LG